تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 245

سے قابل تعریف قرار پاتا ہے۔فرض کرو کسی شخص کا باپ ایک جگہ بیٹھا ہے اور سانپ اس کے جسم پر چڑھ رہاہے مگر اسے کوئی علم نہیں کہ میرے جسم پر سانپ چڑھا جارہا ہے۔یہ نظارہ اس کا لڑکا دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر میں نے ذرا بھی غفلت کی تو سانپ میرے باپ کو ڈس لے گا۔ایسی حالت میں اگر اس کے اند کچھ بھی عقل اور شعور کا مادہ پایا جاتا ہو تو وہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کرے گا کہ زور سے ایک ڈنڈا اس سانپ کو مارے یا اگر جوتا اس کے پاس پڑا ہو تو اسی کو اٹھا کو اس سختی کے ساتھ سانپ پر مارے کہ وہ مر جائے یا ڈر کر بھاگ جائے اور اسے کاٹنے کا موقع ہی نہ ملے۔اب جہاں تک فعل کا سوال ہے یہی کہا جائے گاکہ اس نے اپنے باپ کوڈنڈا مارا یا جوتا اٹھا کر اس نے اپنے باپ کی طرف پھینکا۔مگر جو شخص بھی اس واقعہ کو سنے گا یہ نہیں کہے گا کہ وہ بڑا نالائق اور خبیث تھا اس نے اپنے باپ کو جوتا مارا۔بلکہ ہر شخص اس کی تعریف کرے گا اور کہے گا کہ وہ بڑا نیک اور سعادت مند بچہ تھا اس نے اپنے باپ کی حفاظت کی اور ایسی پھرتی سے کام لیا کہ سانپ کے لئے ڈسنے کا موقع ہی نہ آیا اور وہ مرگیا یا ڈر کر بھاگ گیا۔پس جس طرح اچھے کام بعض دفعہ اضافی لحاظ سے برے بن جاتے ہیں اسی طرح برے کام بعض دفعہ اضافی لحاظ سے اچھے بن جاتے ہیں۔اور یہ وہ نظریہ ہے جسے آئن سٹائن نے نہیں بلکہ سب سے پہلے قرآن کریم نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔قرآن کریم اس بات پر بار بار زور دیتا ہے کہ عمل وہی اچھا ہے جو صالح ہو اور جس میں تمام حالات کو مدّ ِنظر رکھ لیاگیا ہو۔پس نظریہ اضافت عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ میں بتادیا گیاہے۔لوگ کہتے ہیں کہ نیک عمل کرو۔وہ کسی کا نام گڈ ایکشن رکھتے ہیں تو کسی کا نام بیڈ ایکشن۔لیکن وہ اس حقیقت کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ ایکشن اپنی ذات میں نہ کوئی اچھا ہے نہ برا۔اگر کوئی ایکشن اچھا ہے تو نسبتی لحاظ سے اور اگر برا ہے تو نسبتی لحاظ سے۔قتل کتنی بری چیز ہے لیکن لڑائی میں یہ کتنی اچھی چیز بن جاتا ہے۔پس کوئی ایکشن اپنی ذات میںاچھا نہیں اور کوئی ایکشن اپنی ذات میں برا نہیں۔صرف نسبت کے لحاظ سے ایک ایکشن اچھا بن جاتا ہے اور نسبت کے لحاظ سے ہی دوسرا ایکشن برا بن جاتا ہے۔اور یہی معنے عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کے ہیں یعنی مومنوں کو وہ اعمال بجالانے چاہئیںجو اضافی طور پر اعلیٰ قرار دیئے جاسکیں (مگر یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ قرآن کریم اس اضافی نیکی کو بیان نہیں کرتا بلکہ انسان پر چھوڑ دیتا ہے تمام اضافی ضروری تفصیلات وہ خود بھی بیان کرتا ہے اور انتخاب کے اصول اس نے خود بیان کئے ہیں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بیان کروائے گئے ہیں)۔یہ امر پہلے بتایا جاچکا ہے کہ خُسْـرٌ کے معنے ضلالت کے بھی ہوتے ہیں، گھاٹے کے بھی ہوتے ہیں اور تباہی اور بربادی کے بھی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان تینوں معانی پر روشنی ڈالنے کے لیے(۱) اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا