تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 247
ایسی حالت میںاس کے لیے تباہی سے بچنے کے دو۲ ہی ذرائع ہوتے ہیں۔اوّل: اس کے پاس ہلاکت سے بچنے کے مکمل سامان ہوں۔دوم: ان سامانوں سے کام لیا جائے۔سامان نہ ہوںتب بھی انسان ہلاکت سے نہیں بچ سکتا اور اگر سامانوں سے کام نہ لیا جائے تب بھی انسان بربادی سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔پانی نہ ہو تب بھی انسان پیاسا مر جاتا ہے اور اگر پانی تو ہو مگر اس کو پیا نہ جائے تب بھی انسان مر جاتا ہے۔پہلاذریعہ تو مومنوں کو حاصل ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے مامور پر ایمان رکھتے ہیں۔ان کی عملی قوت نہایت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ ایسے اعمال بجا لاتے ہیں جو موقع اور محل کے مناسب ہوں۔اور پھر اس کے ساتھ ہی ایک زائد بات یہ بھی ہوتی ہے کہ انہیں اپنی کامیابی کے متعلق خدا تعالیٰ کا وعدہ نظر آرہا ہوتا ہے اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ دنیا خواہ کس قدر مخالفت کرے وہ ہمیں کبھی مٹا نہیں سکتی۔پس جہاں تک ہلاکت سے محفوظ رہنے کے سامانوں کا سوال ہے وہ مومنوں کو پورے طور پر حاصل ہوتے ہیں۔ان کے اندر ایمان بھی ہوتا ہے ان کے اندر قوت عمل بھی ہوتی ہے اور انہیں اپنی کامیابی کے متعلق خدا تعالیٰ کے وعدوں کی بناء پر کامل یقین بھی ہوتا ہے۔لیکن اس کے بعد کامیابی کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ سامانوںسے کام لیا جائے۔وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ میں اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ خالی عمل صالح انسان کے لیے کافی نہیں ہوتا بلکہ جب وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ کا مقام کسی قوم کو حاصل ہوتا ہے تب وہ ہلاکت سے بچا کرتی ہے اس کے بغیر نہیں۔وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کیا چیز ہے؟اس کے متعلق یہ ا مر یاد رکھناچاہیے کہ چونکہ حق کے ایک معنے صداقت کے بھی ہیں اس لیے وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے ایک معنے تو یہ ہوں گے کہ مومن اصول صداقت پر خود بھی قائم ہوں گے اور دوسروں کو بھی قائم کریں گے یعنی مومنوں کی یہ حالت ہو گی کہ ان میں سے ہر شخص نہ صرف خود صداقت کو قبول کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہے گا بلکہ دوسروں کو بھی یہی نصیحت کرے گا کہ وہ ہمیشہ صداقت کو قبول کرنے کے لیے تیار رہا کریں۔پہلی اور بڑی چیز جو کسی قوم کی ہلاکت کا باعث ہوتی ہے وہ غلط نظریوں پر اس قوم کا قائم ہو جانا ہے۔جب کسی قوم کے سامنے غلط نظریے ہوں گے لازماً وہ غلط نتائج پر پہنچے گی اور غلط نتائج سے غلط اعمال ظاہر ہوں گے۔پس وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ قوم غلط نظریوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔ہاں جب کوئی سچی بات اس کے سامنے پیش ہو گی تو وہ اسے فوراً قبول کر لے گی۔یہ امر انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ جس چیز سے