تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 244
لحاظ سے بھی اچھا ہو۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ ہر عمل جو تم کو اچھا نظر آتا ہو وہ کرو۔بلکہ اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ تم وہ کام کرو جو وقت کے لحاظ سے بھی مناسب ہو کیونکہ ہر عمل خواہ بظاہر کتنا اچھا نظر آتا ہو ایک دوسرے وقت میں برا بن جاتا ہے۔مثلاً رحم کا مادہ ہے جب کسی شخص سے پوچھا جائے کہ بتائورحم کیسی چیز ہے وہ فوراً کہہ دے گاکہ رحم سے بڑھ کر اور کون سی چیز ہوسکتی ہے یہ تو بڑی نیکی ہے۔حالانکہ انسانی زندگی میں بعض اوقات ایسے بھی آجاتے ہیں جب رحم ایک خطرناک جرم بن جاتا ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص اپنی آنکھوں سے کسی چور کو سیندھ لگاتا دیکھے اور وہ خیال کرلے کہ مجھے اس پر رحم کرنا چاہیے اگر میں نے پولیس میں اطلاع دی یا اس کو خود ہی گرفتار کرلیا تو اس پر مقدمہ چلے گا اور یہ کئی سالوں کے لئے قید ہو جائے گا۔اس کے بیوی بچے الگ پریشان ہوں گے او ریہ علیحدہ مصیبت میں مبتلا ہوگا۔تو کوئی شخص اس فعل پر اس کی تعریف نہیں کرے گا۔ہر شخص جو اس واقعہ کو سنے گا کہے گا کہ اس نے سخت برا کام کیا اسے چاہیے تھا کہ چور کو فوراً گرفتار کرلیتا۔اس کا رحم سے کام لینا اور چور کو گرفتار نہ کرنا خوبی نہیں بلکہ انتہا درجہ کا نقص اور عیب تھا۔اب دیکھو رحم ایک وقت اچھی چیزوں میں شمار ہوتا ہے دوسرے وقت بری چیز بن جاتا ہے اور ہر شخص اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگ جاتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو قتل کرنے کے لئے جارہا ہو اور اس راز کا ایک تیسرے شخص کو بھی علم ہو مگر وہ پولیس میں اس وجہ سے اطلاع نہ دے کہ اگر میں نے اطلاع دی تو وہ پکڑا جائے گا اور اس کے بیوی بچوں کو تکلیف ہوگی تویہ ہرگز رحم نہیں کہلائے گا۔اسی طرح اور ہزاروںمواقع انسانی زندگی میں ایسے آتے ہیں جب بہتر سے بہتراور اچھے سے اچھا کام بھی برا بن جاتا ہے اور انسان کا فرض ہے کہ اس سے بچے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ عمل صالح کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور مومنوں کو ہدایت دی ہے کہ تم صرف ایسے کام نہ کر وجو بغیر نسبت کے تمہیں اچھے نظر آتے ہیں بلکہ تم وہ کام کیا کرو جو اردگرد کے حالات اور نسبت کے لحاظ سے بھی اچھے معلوم ہوتے ہوں۔پس اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کے معنے یہ ہیں کہ سب لوگ گھاٹے میں ہیں سوائے ان کے جو ایمان لاتے اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں یعنی ایسے کام کرتے ہیں جو اضافی لحاظ سے اچھے ہوتے ہیں۔یورپ کے لوگ اس بات پر بڑا فخر کیا کرتے ہیں کہ نظریۂ اضافت آئن سٹائن نے ایجاد کیا ہے۔حالانکہ یہ وہ نظریہ ہے جو آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن کریم نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔اسی وجہ سے قرآن کریم میں ہر جگہ عملِ صالح کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنے نظریۂ اضافت کے ہی ہیں یعنی کام اپنی ذات کے لحاظ سے نہیں بلکہ اضافی لحاظ سے اچھے قرار پاتے ہیں۔میں اوپر ایسے کاموں کی مثالیں پیش کرچکا ہوں جو بظاہر اچھے نظر آتے ہیں لیکن نسبتی لحاظ سے بعض دوسرے مقامات پر برے بن جاتے ہیں۔اب میں ایک برے کام کی مثال پیش کرتا ہوں جو اضافی نقطۂ نظر