تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 240
جماعت احمدیہ کے افراد کو باقی تمام دنیا کے خلاف یورپ مردِ بیمار نظر آتا ہے اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ مردِ بیمارکبھی ہم پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتا۔اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مگر وہ لوگ جو (انبیاء پر) ایمان لے آئے اور (پھر) انہوں نے (موقعہ کے) مناسب عمل کئے وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ اور (اصول) صداقت پر قائم رہنے کی آپس میں ایک دوسرے کو تلقین کی وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِؒ۰۰۳ اور (مشکلات پیش آمدہ پر) صبر (سے کام لینے ) کی ایک دوسرے کو ہدایت کرتے رہے (ایسے لوگ کبھی بھی گھاٹے میں نہیں ہوسکتے)۔حلّ لُغات۔صَالِـحَات صَلَحَ سے ہے اور صَلَحَ الشَّیْءُ (صَلَاحًا وَصُلُوْحًا وَصَلَاحِیَّۃً) ضِــدُّ فَسَدَ اَوْ زَالَ عَنْہُ الْفَسَادُ۔یعنی صَلَحَ الشَّیْءُ کے معنے ہوتے ہیں چیز درست ہوگئی یا اس میں جو خرابی پائی جاتی تھی وہ دور ہوگئی اور اَلصَّالِـحُ کے معنے ہوتے ہیں اَلْقَائِمُ بِـمَا عَلَیْہِ مِنْ حُقُوْقِ الْعِبَادِ وَ حُقُوْقِ اللہِ تَعَالٰی ایسا شخص جو ان تمام حقوق کو ادا کرے جو خدا اور اس کے بندوں کی طرف سے اس پر عائد ہوتے ہیں۔اسی طرح کہتے ہیں ھُوَ صَالِـحٌ لِّکَذَا اَیْ لَہٗ اَھْلِیَّۃُ الْقِیَامِ بِہٖ یعنی جب ھُوَ صَالِـحٌ لِّکَذَا کہا جائے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس شخص میں کام کو کما حقہ ٗ سرانجام دینے کی اہلیت پائی جاتی ہے(اقرب)۔پس اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کے معنے یہ ہوئے کہ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے ایسے عمل کئے جو فساد و خرابی سے پاک ہیں یا موقعہ کے مناسب ہیں یا جن سے حقوق اللہ و حقوق العباد ادا ہوجاتے ہیں۔تَوَاصَوْا۔تَوَاصَوْا تَوَاصَی سے جمع کا صیغہ ہے اور تَوَاصَی الْقَوْمُ کے معنے ہوتے ہیں وَصّٰی بَعْضُھُمْ بَعْضًا قوم کے افراد نے ایک دوسرے کو تاکید کی (اقرب)۔پس تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ کے معنے یہ ہوئے کہ وہ ایک دوسرے کو حق کی تاکید کرتے ہیں۔اَلْـحَقُّ: ضِدُّ الْبَاطِلِ حق کے معنے ایسی بات کے ہیں جو جھوٹ کے خلاف ہو۔اور حق کے معنے اَلْاَمْرُ الْمَقْضِیُّ