تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 236
چوتھے معنے اس کے یہ ہیں کہ دن کو ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ انسان گھاٹے میں ہے۔اس سے اس قاعدہ کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ جب شمس رسالت کا طلوع ہوتا ہے تو کوئی قوم جو اس کے مقابل پر ہو بغیر اس پر ایمان لانے کے تباہی سے بچ نہیں سکتی۔پانچویں معنے اس کے یہ ہیں کہ ہم عطیہ کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔یعنی جب اللہ تعالیٰ دنیا پر احسان کرتا اور نبوت اور کلام بھیجتا ہے تو صرف مومن ہی ترقی کرسکتے ہیں دوسرے لوگ ترقیا ت سے محروم رہ جاتے ہیں۔خُسْـرٌ کے معنے جیسا کہ اوپر بتایا جاچکا ہے عربی زبان میں گھاٹے کے بھی ہیں، گمراہی کے بھی ہیں اور ہلاکت اور بربادی کے بھی ہیں۔ان تینوں میں سے ہلاکت کے معنوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر اس آیت کو اسلام کے آخری زمانہ پر چسپاں کیا جائے تو اَلْاِنْسَان سے مراد ’’مردِ مغرب‘‘ ہوگا اور اس میں یہ پیش گوئی پائی جائے گی کہ مغربی لوگ صرف اپنے آپ کو انسان سمجھیں گے باقی دنیا میںسے کسی کو بھی انسان سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہوںگے اور لَفِيْ خُسْرٍ کا مفہوم یہ ہوگا کہ جتنا جتنا وہ اپنے آپ کو کامل انسان بنائیں گے اتنا ہی ان کی ہلاکت کا سامان پیدا ہوتا چلا جائے گا۔چنانچہ اب یہ حقیقت تمام دنیا پر منکشف ہورہی ہے کہ جس قدر تہذیب ترقی کررہی ہے اسی قدر تباہی اور بربادی کے سامان بھی بڑھتے چلے جارہے ہیں۔انہی سامانوں میں سے ایک ایٹم بم ہے جو اس جنگ میں ایجاد کیا گیا۔یہ ایک ایسا خطرناک اور تباہ کن ہتھیار ہے کہ جنرل میکارتھر نے اپنے ایک اعلان میں صاف طور پر کہا ہے کہ یا تو ہمیں اسلحہ کی اس ترقی کے مقابلہ میں اپنے اخلاق میں بھی نمایاں ترقی کرنی پڑے گی ورنہ اگر اخلاق میں ترقی نہ ہوئی تو دنیا کی تباہی میں کوئی شبہ نہیں۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بیان فرمائی ہے کہ وہ جتنا جتنا اپنے آپ کو اَلْاِنْسَان قرار دیں گے اوریہ دعویٰ کریں گے کہ ہم میں بڑے بڑے سائنسدان ہیں، بڑے بڑے حساب دان ہیں، بڑے بڑے ماہرین تجارت ہیں، بڑے بڑے صناع ہیں، بڑے بڑے موجد ہیں اتنا ہی وہ ہلاکت کے قریب ہوتے جائیںگے اور اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے کھودیں گے۔اسی طرح خُسـر کے معنے ضلالت کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ آخری زمانہ میں لوگ مومنوں کو ذلیل اور ادنیٰ سمجھیں گے اور اپنے آپ کو ہی انسان سمجھیں گے لیکن ہدایت صرف مومنوں کے پاس ہوگی۔اس وقت ایک موعود کا پیدا ہونا اور عصر کامل یعنی نبی کا وجود اس امر کا ثبوت ہوگا کہ بظاہر کامل نظر آنے والا انسان گمراہی میں مبتلا ہے یعنی دنیا پر مغربی لوگوں کی غلطی ثابت کرنے کا ذریعہ صرف نبی کا وجود ہوگا۔ورنہ اور کوئی صورت نہ ہوگی کہ ان کی گمراہی ثابت کی جا سکے صرف روحانی طور پر ہی یہ امر ثابت ہوسکے گا۔اس صورت میں