تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 235
اور پھر بدھؑ آئے اور ان کے ذریعہ انہیں ترقی حاصل ہوئی۔لیکن بدھؑ کے بعد چونکہ ہندو مذہب اور پھر بدھ مذہب منسوخ ہوگیا اس لئے اب اگر ہندو محض دنیوی تدابیر سے ترقی کرجائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔لیکن مسلمان کبھی دنیوی تدابیر سے ترقی نہیں کرسکتے۔کیونکہ مسلمان ایک سچے مذہب کوماننے والے ہیں اور جس جماعت کی یہ حالت ہو وہ تنزّل کے بعد بغیر اللہ تعالیٰ کے کسی نبی کی بعثت کے دوبارہ ترقی نہیں کیا کرتی۔عیسائی اگر تنزّل کے بعد ترقی کرجائیں تو اس میں کوئی اعتراض کی بات نہیں کیونکہ عیسائیوں سے اب اللہ تعالیٰ اپنی محبت کے تمام تعلقات منقطع کرچکا ہے اور ان کا مذہب منسوخ ہوچکا ہے۔پس یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون کہ دنیا کی ترقی دین کے ساتھ وابستہ ہے ہر قوم کے متعلق نہیں بلکہ ان اقوام کے متعلق ہے جو ابھی اللہ تعالیٰ کے الہام سے محروم نہیں ہوئیں۔اگر ان کو بھی دین کے بغیر دنیا میں ترقی مل جائے تو پھر دین کا کسی قوم کے پاس بھی حصہ نہ رہے اور خدا تعالیٰ کا خانہ بالکل خالی ہوجائے۔اس لئے اللہ تعالیٰ اب مسلمانوں کو کبھی ترقی نہیں دے سکتا جب تک وہ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ میں اپنے آپ کو شامل نہیں کرلیتے۔آج اللہ تعالیٰ کنفیوشس مذہب کے پیروئوں کو بالکل چھوڑ بیٹھا ہے، زرتشتی مذہب کے پیروئوں کو بالکل چھوڑ بیٹھا ہے، بدھ مذہب کے پیروئوں کو بالکل چھوڑ بیٹھا ہے، ہندومذہب کے پیروئوں کو بالکل چھوڑ بیٹھا ہے، عیسائی مذہب کے پیروئوں کو بالکل چھوڑ بیٹھا ہے اور ان کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کسی زمیندار کا بیل بڈھا ہوجائے تو وہ اسے کھلا چھوڑ دیتا ہے اور اس بات کی پروا تک نہیں کرتا کہ وہ رات کو گھر میں واپس آتا ہے یا نہیں۔لیکن مسلمانوں کی مثا ل دودھ دینے والی گائے کی سی ہے۔ایک بڈھا بیل جسے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے اس کے متعلق مالک کا اور قانون ہوتا ہے اور گھر کی دودھ دینے والی گائے کے متعلق مالک کا اور قانون ہوتا ہے۔بوڑھا بیل اگر رات کو گھر میں نہیں آتا تو مالک اس کی پروا بھی نہیں کرتا۔لیکن اگر دودھیلی گائے رات کو گھر میں نہ آئے تو وہ ادھر ادھر دوڑا پھرتا ہے اور ہر ایک سے پوچھتا ہے کہ میری گائے کدھر گئی۔پس وہ جماعتیں جن کا خدا تعالیٰ سے تعلق کٹ چکا ہوتا ہے اگر دنیوی تدابیر سے ترقی کر جائیں تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کچھ پروا نہیں ہوتی لیکن وہ جماعتیں جن کا خدا تعالیٰ سے روحانی تعلق باقی ہوتا ہے ان کے متعلق خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ ان کی اصلاح اور ترقی بغیر نبی کے نہیں ہوتی۔پس انگلستان اور امریکہ اور جاپان وغیرہ کی مثالیں یہاں چسپاں نہیں ہوتیں۔یہ قانون ان اقوام کے متعلق ہے جن کا بھی خدا تعالیٰ سے کچھ تعلق ہوتا ہے نہ ان کے متعلق جو خدا تعالیٰ سے بغاوت اختیار کرکے نورِ الہام سے کلیۃً محروم ہوجاتی ہیں۔