تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 224
زیادہ سے زیادہ رکھے اس کے پاس علم بھی ہو،اس کے پاس دولت بھی ہو،اس کے پاس طاقت بھی ہو، اس کے پاس جتھہ بھی ہو، اس کے پاس صنعت و حرفت بھی ہو۔اور جب کسی کو یہ تمام چیزیں میسر آجائیں تو وہ خیال کرتا ہے کہ اب اس کا ترقی نہ کرسکنا بالکل محال اور ناممکن ہے۔چونکہ عام طور پر دنیا میں ہمیں یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ قومی ترقی دنیوی تدابیر سے وابستہ ہوتی ہے اس لیے جب کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کیا تو ترقی حاصل کرو گے اور اگر عمل نہ کیا تو گر جائو گے۔تو وہ لوگ جو دنیوی تدابیر کو ہی ہر قسم کی کامیابیوں کا علاج سمجھتے ہیں حقارت آمیزہنسی ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم یہ کیا کہہ رہے ہو کہ خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کیا توہمیں ترقی ہو گی اور اگر عمل نہ کیا تو ترقی نہیں ہوگی۔دنیا میں تو ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ جو شخص دنیوی تدابیر کو اپنے کمال تک پہنچا دیتا ہے وہ اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہو جاتا ہے خواہ وہ خدا تعالیٰ کے شرعی احکام کاکتنا ہی منکر ہو اور جب حالت یہ ہے تو تمہارا اللہ تعالیٰ کے وجود کو پیش کرنا اور کہنا کہ خدا تعالیٰ کے احکام سے انحراف کیا تو تم تنزّل میں گر جائو گے بالکل خلاف عقل امر ہے۔خدا تعالیٰ کی حکومت تو ہمیں اس دنیا میں نظر ہی نہیں آتی۔دنیا خدا تعالیٰ کی منکر ہوتی ہے مگر پھر بھی ترقی کر جاتی ہے۔اور جب دنیوی تدابیر سے کام لینے کے نتیجہ میں ہی تمام کارخانہ عالم چل رہا ہے تو ہمیں تمہاری بات کا یقین کیونکر آئے اور کس طرح پتہ لگے کہ خدا تعالیٰ کی حکومت اور اس کا رعب اور دبدبہ بھی اس دنیامیں جاری ہے۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ لوگ خدا تعالیٰ سے باغی ہوتے ہیں مگر پھر بھی ترقی حاصل کر لیتے ہیں۔پس اگر تمہاری یہ بات اپنے اندر کوئی وزن رکھتی ہے تو تم خدا تعالیٰ کی حکومت کا ہمارے سامنے کوئی ثبوت پیش کرو۔ورنہ یہ ایک واضح امر ہے کہ دنیوی ترقیات میں خدا تعالیٰ کا کوئی دخل نہیں۔یہ چیز محض دنیوی تدابیر سے وابستہ ہوتی ہے۔جو شخص ان تدابیرمیں پورا حصہ لیتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جو نہیں لیتا وہ ناکام رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ کسی وقت دنیوی تدابیر سے کام لے کر بعض لوگوں کا دنیا پر غالب آجانا یا ترقی کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ خدا تعالیٰ کی حکومت اس دنیا میں نہیں۔کیونکہ ایک زمانہ ایسا ہوتا ہے جب دنیا کے پاس اپنی ترقی کے تمام سامان موجود ہوتے ہیں۔مگر جب کوئی نبی آتا ہے تو اکیلا نبی ساری دنیا کے مقابلہ میں جیت جاتا ہے اور سازو سامان رکھنے والے ناکامی اور نامرادی سے حصہ لیتے ہیں۔اس وقت پتہ لگ جاتا ہے کہ خدا ہے۔ورنہ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ اکیلا شخص تو جیت جاتا اور ساری دنیا اپنے تمام سامانوں کے ساتھ شکست کھا جاتی پس فرماتا ہے وَ الْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ۔یہ جواصول ہے کہ خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرکے کوئی انسان جیت نہیں سکتا اس اصول کو ہر زمانہ میں نہیں دیکھا جاسکتا۔صرف زمانہ نبوت میں دیکھا جا سکتا ہے۔وہ وقت