تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 218

سے جدا ہونے لگتے تو یہ سورۃ ایک دوسرے کو سناتے اور پھر سلام کر کے رخصت ہوتے( روح المعانی تفسیر سورۃ العصـر ابتدائیۃ)۔اس کے بغیر وہ کبھی جدا نہیں ہوتے تھے گویا صحابہؓ اس سورۃ کے مضمون کی وسعت سے خاص طور پر متاثر تھے۔ترتیب سورۂ عصر کا پہلی سورتوں سے تعلق جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں گذشتہ چند سورتوں سے یہ طریق چلا آرہا ہے کہ ایک سورۃ اسلام کے ابتدائی زمانہ کے متعلق آتی ہے تو دوسری سورۃ اسلام کے دوسرے زمانہ کے متعلق آتی ہے۔اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ اسلام کے ابتدائی زمانہ کے متعلق تھی اور وَ الْعَصْرِ۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ آخری زمانہ کے متعلق ہے۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیوی ترقیات کسی قوم کو تباہی سے نہیں بچا سکتیں۔قوموں پر ترقی کا ایک زمانہ ایسا آیا کرتا ہے جب وہ سمجھتی ہیں کہ اب ہمارے تنزّل کی کوئی صورت نہیں۔چونکہ اسلام پر بھی ایک ایسا زمانہ آنے والا تھا جب اس کے دشمنو ں نے اپنی مادی ترقیات پر نظر رکھتے ہوئے کہنا تھا کہ اب ہماری تباہی کی کوئی صورت نہیں۔ادھر مسلمانوں نے دشمنوں کی حالت کو دیکھ کر سمجھ لینا تھا کہ ہمارے لیے اب ترقی کی کوئی صورت نہیںاس لیے اس زمانہ کی حالت کا نقشہ سورۃ العصر میں کھینچا گیا ہے۔گویا اس میں زمانہء مسیح موعودؑ کی پیش گوئی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خود بھی اس سورۃ کو اپنے زمانہ پر چسپاں فرمایا ہے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے(شروع کرتا ہوں) وَ الْعَصْرِۙ۰۰۲ (مجھے) قسم ہے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ) زمانہ کی اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍۙ۰۰۳ (کہ ) یقیناً (نبیوں کا مخالف ) انسان ( ہمیشہ ہی )گھاٹے میں ( رہتا ) ہے حلّ لُغات۔عَصْـرٌ۔عَصْـرٌ کہتے ہیں عَصَـرَ الْعِنَبَ وَ نَـحْوَہٗ عَصْـرًا: اِسْتَخْرَجَ مَآءَہٗ۔انگور نچوڑ