تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 204
اس میں انہیں کامیاب نہیں ہونے دو گے۔موت تمہارے سر پر کھڑی ہے اور تمہاری اپنی جان نکل رہی ہے مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ تم بجائے اپنے حالات پر غور کرنے کے اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تباہی کے خواب دیکھ رہے ہو یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے بعض دفعہ کوئی امیر شخص مر رہا ہوتا ہے۔موت دروازہ پر کھڑی اس کا انتظار کر رہی ہوتی ہے اور ہر شخص کو دکھائی دے رہا ہوتا ہے کہ وہ چند گھڑیوں کا مہمان ہے مگر اس وقت جب اس کے کسی نوکر سے دوائی گر جاتی ہے تو وہ انتہائی غصہ سے کہتا ہے تمہیں شرم نہیں آتی تم نے دوائی گرا دی ہے اگر تم نے پھر ایسی حرکت کی تو میں تمہاری خوب خبر لوں گا۔حالانکہ دو منٹ کے بعد وہ خود مر جاتا ہے یہی حالت اس وقت تمہاری ہے کہ تکاثر کی عادت میں بڑھتے بڑھتے تم ایسے مقام پر پہنچ چکے ہو کہ تم قبروں میں پائوں لٹکائے بیٹھے ہو اور تمہاری تباہی اور بربادی با لکل یقینی ہے جیسے قبر میں سے کوئی مردہ نکل کر واپس نہیں آسکتا اسی طرح تم اس قدر ذلیل اور رسوا ہو چکے ہو اور اس قدر دینی اور دنیوی موتیں تم پر وارد ہو چکی ہیں کہ تم اب اپنی اس حالت سے لوٹ ہی نہیں سکتے۔پس اب تمہارا یہ کہنا کہ ہم جیت جائیں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی ہار جائیں گے اگر پاگل پن کی بات نہیں تو اور کیا ہے۔مردہ اسی وقت زندہ ہو سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس میں نئی روح داخل کی جائے۔اگر نئی روح اس میں نہ پھونکی جائے تو کوئی مردہ جسم دوبارہ زندگی حاصل نہیں کر سکتا۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے اور وہ یہ کہ یہ سورۃ تو اہل مکہ کی نسبت ہے اور ان کے پاس کوئی زیادہ مال نہیں تھا پھر وہ تکاثر کے مجرم کس طرح ہو گئے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہر قوم کی دولت نسبتی ہوتی ہے اگر ان کے مالدار چھوٹے تھے تو ان کے غریب بھی تو بہت غریب تھے پس تکاثر نسبتی امر ہے۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے پاس کروڑوں نہیں اس لئے میں تکا ثر کا مجرم نہیں۔امریکہ والوں کے لئے تکاثر کے اور معنے ہیں۔انگلستان کے لئے اور۔اور ہندوستان کے لئے اور۔اس میں سے ہندوئوں کے لئے اور۔مسلمانوں کے لئے اور۔پھر احمدیوں کے لئے اور۔جس قوم پر جو ذمہ داری ہے چھوٹی ہو یا بڑی،اگر وہ اس ذمہ داری کو ادا کرنے سے قاصر ہے تو تکاثر کی مرتکب ہے بلکہ جب بھی دین یا دنیا کے کسی اچھے کام کے لئے کسی قربانی کی ضرورت ہے اور کوئی شخص اس وقت اپنے ہاتھ کو پیچھے کھینچ لیتا ہے گو اس کے پاس ایک ٹکڑا روٹی کا ہی تھا وہ تکاثر کا مرتکب ہے کیونکہ اس نے ایک چیز اپنے پاس رکھ لینی چاہی جو دوسروں نے قربان کر دی تھی یا جس کی اس کے دین یا اسی قوم کو ضرورت تھی۔جس قوم میں یہ نقص پیدا ہو جائے اور قربانی میں دریغ کرنے لگے وہ تباہ ہو جاتی ہے۔اسی لئے فرمایا حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ یعنی یہ مرض آخر قومی موت کی طرف لے جاتا ہے۔