تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 203

ہلاکت اور بربادی کے گڑھے میں گرانا ہے۔تم لاکھ کوشش کرو اس مقابلہ میں تمہیں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔اس لیے ظاہر ہے کہ اس سورۃ میں بھی اہل مکہ سے ہی خطاب کیا گیا ہے۔پہلی سورتوں میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ تم غریبوں کو کھانا نہیں کھلاتے، مساکین کو دھکے دیتے ہو،یتامیٰ کی کبھی خبرگیری نہیں کرتے، مال ودولت آئے تو سب عیاشی میں اڑادیتے ہو اور اگر کوئی شخص روپیہ کو عیاشی میں نہیں اڑاتا تو وہ اتنے بخل سے کام لیتا ہے کہ قومی ضرورتوں کے باوجود وہ اس روپیہ کو غلق میں بند کرکے بیٹھ رہتا ہے اور اسے کسی مفید مصرف میں نہیں لاتا۔اسی طرح بتایا گیا تھا کہ تمہاری حالت یہ ہے کہ تم غلاموں کو مارتے ہو۔عورتوں کو ان کے حقوق نہیں دیتے اور ہر قسم کے ظلم وستم سے کام لیتے رہتے ہو۔اس کے مقابلہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ وہ ہیں جن میں نیکی اور تقویٰ بدرجہ کمال پایاجاتا ہے۔وہ غریبوں کو کھانا کھلاتے ہیں،وہ مساکین پر رحم وشفقت سے کام لیتے ہیں، وہ یتامیٰ کی خبر گیری کرتے ہیں، وہ مال ودولت کی حفاظت کرتے ہیں،وہ قومی ضرورتوں کو اپنی ذاتی ضروریا ت پر مقدم رکھتے ہیں۔اسی طرح وہ غلاموں سے حسن سلوک کرتے ہیں،وہ عورتوں کو ان کے حقوق پوری دیانتداری کے ساتھ اداکرتے ہیںاور کبھی ظلم وستم کے قریب بھی نہیں جاتے جب تمہاری حالت اور ان کی حالت میں اس قدر بیّن فرق ہے تو تم کس طرح یہ خیال کر سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں تمہیں کامیابی حاصل ہوگی۔اب فر ماتا ہے اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ۔تم کو ہوشیار ہوجانا چاہیے اور تمہیں اپنے دل کے اندرونی گوشوں سے یہ خیال با لکل نکال دینا چاہیے کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ کر سکو گے۔کیا تم اپنے نفس پر غور نہیں کرتے کہ تم گرتے گرتے کس مقام پر جا پہنچے ہو۔دنیا کی محبت تم میں ہے، مال کی محبت تم میں ہے،عزت کی محبت تم میں ہے اور تم نے زندہ رہنے کا مادہ با لکل مٹا ڈالا ہے۔زندہ رہنے کے دو ہی مادے ہوتے ہیں یا دین ہوتا ہے یادنیا ہوتی ہے۔تکاثر والا دین کو بھی بھول جاتا ہے اور دنیوی لحاظ سے بھی ذلت ورسوائی کے گڑھے میں جا پڑتا ہے۔دین کو تو وہ اس طرح بھول جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی ذات دونوں اس کی نظر سے اوجھل ہو جاتی ہیں اور دنیا میں وہ اس طرح ذلیل ہوتا ہے کہ تکاثر کے نتیجہ میں تکبر اور خودپسندی میں مبتلا ہو کر دوسروں کے حقوق کو فراموش کر دیتا اور ان پر مختلف رنگ کے مظالم شروع کر دیتا ہے۔غرض دو ہی چیزیں ہیں جو کسی قوم کو زندہ رکھ سکتی ہیںیا تو دینی روح کسی قوم کو زندہ رکھا کرتی ہے اور یا پھر دنیوی روح کسی قوم کے عروج کا باعث ہوا کرتی ہے مگر تکاثر ان دونوں کو مٹا دیتا ہے۔پس فرماتا ہے جب تمہارے اندر تنزّل کے آثار پوری طرح پیدا ہوچکے ہیںتو کیا اب بھی تم سمجھتے ہو کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو کچل دو گے اور جس مقصد کے لیے وہ دنیا میں کھڑے ہوئے ہیں