تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 205

اس جگہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا تکاثر اور تفاخر کلی طور پر ممنوع ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ اس تکاثر کا ذکر ہے جو انسان کو موت تک پہنچا دیتا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ۔حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ اس تکاثر نے تم کو تمام نیک باتوں سے غافل کر دیا ہے یہاں تک کہ تم موت تک پہنچ چکے ہو۔یعنی اگر نیک باتوں پر فخر ہو یا ایسی باتوں پرفخر ہو جو دوسروں کو نیکی اور تقویٰ کی طرف لانے میں ممد ہوں تو اس قسم کا تفاخر منع نہیں۔گویا تفاخر کی دو قسمیں ہیں ایک تفاخر وہ ہے جو انسان کو مقابر کی طرف لے جاتا ہے اور ایک تفاخر وہ ہے جو انسان میں زندگی پیدا کرتا ہے۔جو تفاخر انسان کو مقابر کی طرف لے جاتا ہے وہ کلی طور پر ممنوع ہے اور جو تفاخر زندگی پیدا کرتا ہے وہ منع نہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ آپ نے ایک دفعہ فرمایا اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ وَلَا فَـخْرَ (سنن ابن ماجہ کتاب الزھد باب ذکر الشفاعۃ) مجھے خدا تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کا سردار بنایا ہے مگر اس کے باوجود میں اس پر فخر نہیں کرتا۔یہ نہیں کہ میں تم کو ذلیل سمجھوں اور اپنے آپ کو تم سے کوئی علیحدہ ہستی قرار دوں میرا فرض ہے کہ میں سید ولد آدم ہونے کے باوجود تمہاری خدمت کروں اور تمہیں ترقی کے میدان میں بہت آگے لے جائوں اسی طرح فرماتے ہیں تَزَوَّجُوْا وَلُوْدًا وَدُوْدًا فَاَنَا مُکَاثِرُبِکُمُ الْاُمَمَ وَ مُفَاخِرُ بِکُمْ ( سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب النـھی عن تزویج من لم یلد من النساء ) تم شادیاں کرو جننے والی اور محبت کرنے والی عورتوں سے کیونکہ تمہارے ذریعہ سے میں دوسری قوموں پر فخر کرنے والا ہوں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کثرت تعداد کو صرف جائز ہی نہیں بلکہ پسندیدہ قرار دیتا ہے مگر چونکہ بعض کثرتیں نہایت گندی ہوتی ہیں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف یہ خواہش نہیں رکھتا کہ تم اپنی تعداد کے لحاظ سے دوسری قوموں سے بڑھ جائو بلکہ میری خواہش یہ بھی ہے کہ باوجود کثیر ہونے کے تم ایسے نیک اور پاک بنو کہ میں قیامت کے روز دوسری امتوں کے مقابلہ میں تم پر فخر کر سکوں۔اس حدیث میں وُلُوْد کا لفظ کثرت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وُدُوْد میں تفاخر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم محض کثرت پر نہیں بلکہ اپنی امت کے اعلیٰ اخلاق پر فخر کریں گے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ماں باپ اپنی اولاد کی اعلیٰ تربیت کریں اور کوشش کریں کہ ان کی نیکی صرف ان کی ذات تک محدود نہ رہے بلکہ اس کا اثر نسلاً بعد نسلٍ ان کی اولاد میں بھی منتقل ہوتا چلا جائے تو وہ ایسی اعلیٰ درجہ کی نسلیںپیدا کر سکتے ہیں جو اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے باعث فخر ہوں۔افسوس کہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی طرف توجہ کرتے ہیں۔ان میں ذاتی طور پر تقویٰ بھی ہوتا ہے، روحانیت بھی ہوتی ہے، اعلیٰ اخلاق بھی ہوتے ہیں، رأفت اور شفقت کے جذبات بھی ہوتے ہیں، حلم بھی موجود ہوتا ہے، حصول علم کی بھی