تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 191

مختلف علوم میں مسلمانوں کی ایجادات میں انگریزوں کی سرجری سے بڑا متاثر تھا اور میں سمجھتا تھا کہ انہوںنے اس فن میں خوب ترقی کی ہے مگر ایک دن جب کہ میں بقراط کا ایک چھوٹا سا رسالہ سرجری کے متعلق پڑھ رہا تھا تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔جب میں نے دیکھا کہ بقراط نے اس رسالہ میں یہ بحثیں کی ہیں کہ میں نے گردوں کے اتنے اپریشن کئے ہیں اور فلاں عضو کے اتنے اپریشن کئے ہیں۔پھر اس نے ان آلات کا بھی ذکر کیا ہے جن کے ذریعہ اس نے یہ باریک درباریک اپریشن کئے۔اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سرجری اس سے پہلے بھی دنیا میں ترقی یافتہ صورت میں موجود تھی۔پہلے بھی اپریشن کئے جاتے تھے پہلے بھی مختلف قسم کے آلات ایجاد ہوچکے تھے اور پہلے بھی لوگ ان فنون میں مہارت رکھتے تھے مگر پھر ایک زمانہ ایسا آیا جب یہ علوم دنیا سے مٹ گئے اس لئے کئی ایسی ایجادات جو درحقیقت مسلمانوں کی تھیں ان کے متعلق آج یورپ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے موجد ہیں حالانکہ وہ ان کے موجد نہیں بلکہ ان کے موجد مسلمان لوگ ہیں۔اسی طرح جراثیم کا علم موجودہ زمانہ کی طبی تحقیق کا بہترین نچوڑ سمجھا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے پہلے دنیا کو جراثیم کا علم نہیں تھا لیکن ایک یورپین مصنف نے اپنی ایک کتاب میں اس بات پر بحث کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ یہ بات قطعی طور پر غلط ہے کہ جراثیم کا علم دنیا میں پہلے موجود نہیں تھا۔وہ مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انہوں نے اس علم کی تحقیق کی اور وہ تحقیق کرتے کرتے اس کی آخری حد تک پہنچ گئے۔مگر چونکہ ان کے پاس خوردبین نہیں تھی اس لئے وہ نام نہیں رکھ سکے ورنہ باقی سب کیفیتیں جو جراثیم کے متعلق ہماری طرف سے پیش کی جاتی ہیں انہوں نے دریافت کرلی تھیں۔چنانچہ اس نے مثال دی ہے کہ جب دارالسلام (بغداد) کی بنیاد رکھی جانے لگی تو بادشاہ نے ایک طبیب کو اس غرض کے لئے مقرر کیا کہ وہ مشورہ دے کہ دارالسلام کی بنیاد کس مقام پر رکھی جائے۔وہ لکھتا ہے بادشاہ کا ایک طبیب مقرر کرنا اور اس سے یہ مشورہ حاصل کرنا کہ دارالسلام کی بنیاد کہاں رکھی جائے بتاتاہے کہ مسلمان بادشاہوں کو طب کا اس قدر علم تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ شہر کی بنیاد کا تعلق بھی طب سے ہے۔چنانچہ طبیب مقرر ہوا اور اس نے حکم دیا کہ بکرے ذبح کرکے تمام علاقوں میں مختلف جگہوں پر ان کے ٹکڑے رکھ دیئے جائیں۔کئی دنوں کے بعد اس نے تمام ٹکڑوں کا معائنہ کیا اور دیکھا کہ ان کی کیا حالت ہے۔آخر اس نے بادشاہ کے پاس رپورٹ کی کہ آپ فلاں جگہ شاہی قلعہ بنائیں۔فلاں جگہ چھائونی تیار کریں اور فلاں جگہ لوگوں کے لئے رہائشی مکانات تیار کرائیں کیونکہ ان مقامات پر بکروں کا گوشت یا تو کم سڑا ہے یا بالکل ہی نہیں سڑا اور فلاں فلاں مقامات پر اس میں زیادہ تعفن پیدا ہوا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جن مقامات پر گوشت زیادہ سڑا ہے وہاں کی ہوا میں عفونت زیادہ ہے اور جن مقامات پر گوشت میں