تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 190
اوّل موجبات فخر یعنی صفاتِ الٰہیہ اس کی نظر سے اوجھل ہوتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ کی ذات بھی اس کی نظر سے اوجھل ہوجاتی ہے۔پس اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ کے معنے یہ ہوئے کہ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ عَنْ صِفَاتِ اللہِ وَ عَنِ اللہِ۔تمہیں تکاثر نے اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی ذات دونوں سے غافل کردیا ہے۔پھر دنیا میں اللہ تعالیٰ کے جتنے فضل نازل ہوتے ہیں سب ملائکہ کے ذریعہ نازل ہوتے ہیں۔ملائکہ انسان کی ترقی اور اس کو بلند شان تک پہنچانے کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہیں اور انسان کا فرض ہے کہ اس توسط کو کبھی نظرانداز نہ ہونے دے لیکن جب کوئی شخص اپنی ذات پر فخر کرتا ہے تو نہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی ذات کو بھول جاتا ہے بلکہ وہ اس بات کو بھی فراموش کردیتا ہے کہ میری عزت یا دولت یا شہرت کے حصول میں محض میری ذاتی کوششوں کا دخل نہیں بلکہ ان ملائکہ کا بھی دخل ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر قسم کی کامیابی کے سامان مہیا کرتے ہیں۔پھر جب بھی کسی کو بڑائی حاصل ہوتی ہے ہمیشہ اضافی طور پر ہوتی ہے۔غیر اضافی طور پر ہمیں دنیا میں کوئی شخص بڑا نظر نہیں آتا۔یہ ایک بہت بڑانکتہ ہے جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے مگر بعض بےوقوف اس کی حقیقت کو نہ سمجھتے ہوئے اعتراض کردیا کرتے ہیں کہ قرآن کریم بھی عجیب کتاب ہے کہ اس میں کسی جگہ پر تو یہ ذکر آتا ہے کہ فلاں سے بڑا کوئی نہیں اور بعض جگہ کسی اور کو بڑا قرار دے دیا گیا ہے۔کوئی ایک تو بڑا ہو سکتا ہے مگر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ سب لوگ بڑے ہوں۔وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ اس اعتراض سے خود ان کی اپنی حماقت کا ثبوت ملتاہے۔ورنہ قرآن کریم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ سراسر حکمت اور دانائی پر مشتمل ہے۔اس کا منشا یہ ہے کہ دنیا میں اگر تمہیں کوئی بڑانظر آتا ہے تو اس کی بڑائی محض اضافی ہے غیراضافی نہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو جزئیات کا علم کامل نہیں۔ایک قوم دنیا میں بڑھتی اور ترقی کرتی ہے تو وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتی ہے کہ میں نے بہت بڑا کمال حاصل کرلیا۔اتنابڑا کمال کہ مجھ سے پہلے شاید ہی کسی قوم نے حاصل کیا ہو۔اسی بناء پر وہ تکبر میں مبتلا ہوجاتی اور اپنے مقابلہ میں دنیا کی تمام اقوام کو حقیر اور ذلیل خیال کرنے لگتی ہے۔مگر آہستہ آہستہ جب گذشتہ تاریخی واقعات منکشف ہوتے ہیں تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے بھی اس قسم کے کمالات رکھنے والے لوگ دنیا میں پائے جاتے تھے۔بیسیوں چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق آ ج سے پچاس سال پہلے یورپ اسی امر کا مدعی تھا کہ ہم ان چیزوں کے موجد ہیں۔مگر آج یورپ تسلیم کرتاہے کہ ہم سے پہلے یہ چیزیں دنیا میں موجود تھیں۔پھر جن زمانوں کی تاریخ کلیۃً مٹ چکی ہے نہ معلوم ان میں کتنی بڑی ایجادات ہوچکی تھیں اور جو تاریخ آئندہ مٹ جائے گی ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کے بعد دنیا کی کیا صورت ہوجائے گی اور وہ کن کن امور پر بے جا فخر کرنے لگ جائیں گی۔