تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 192

سڑاند پید انہیں ہوئی یا بہت ہی کم پیدا ہوئی ہے وہاں کی ہوا زیادہ صاف ہے۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے وہ یورپین مصنف لکھتا ہے کہ اس سے یہ حقیقت روشن ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی کہ آج سے سینکڑوں سال قبل مسلمانوں کو بکٹیریا کا علم حاصل تھا ہم نے صرف خوردبین کے ذریعہ اس کو پکڑ لیا ہے ورنہ جہاں تک علمی تحقیق کا سوال ہے مسلمانوں نے بھی اس کاپتہ لگالیا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ہوا کی صفائی کا تعلق بعض غیرمرئی چیزوں کے ساتھ ہے جس جگہ وہ ہوتی ہیں وہاں تعفن پیدا ہوجانے سے انسانی صحت خراب ہوجاتی ہے اور جہاں نہیں ہوتیں وہاں انسان کی صحت اچھی رہتی ہے۔پس یہ علم وہ ہے جس کی مسلمانوں نے داغ بیل ڈالی اور اپنے زمانہ میں انہوں نے اس سے فائدہ بھی اٹھایا مگر پھر ان کی اپنی نسلیں بھی بھول گئیں اور باقی دنیا کو بھی یاد نہ رہا کہ اس علم کا کون موجد تھا۔چنانچہ آج جب یورپین محققین نے جراثیم کا علم دریافت کیا تو انہوں نے یہ خیال کرنا شروع کردیا کہ اس علم کے اوّلین موجد ہم ہیں حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ مسلمان اس سے پہلے یہ علم حاصل کرچکے تھے۔پس جب بھی کوئی فخر کرتا ہے وہ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا میں بہت لوگ گذر چکے ہیں اور وہ اپنے اپنے زمانوںمیں بڑی شہرت کے مالک رہے ہیں میرے لئے فخر کا کون سا مقام ہے۔پس تکاثر سے کا م لینے والا صرف خدا تعالیٰ کی صفات کو نظر انداز نہیں کرتا، اس کی ذات کو نظر انداز نہیں کرتا، اس کے ملائکہ کو نظرانداز نہیں کرتا بلکہ دنیا کے سابق علوم اور سابق ایجادات سے بھی انکار کر دیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کے باپ دادا تو محض جاہل تھے کمال صرف اسی کو حاصل ہوا ہے۔پس تکا ثر کا ایک نتیجہ واقعات کے انکار کی صورت میں رونما ہوتا ہے۔پھر اس کے نتیجہ میں تکبر بھی پیدا ہوتا ہے اور غرباء پر ظلم شرو ع ہو جاتاہے۔بجائے اس کے کہ انسان کا ذہن اس طرف جائے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لئے مال دیا ہے کہ میں غریبوں کی خدمت کروں اس کا ذہن اس طرف چلا جاتا ہے کہ میں بڑا ہوں میرا کام یہ ہے کہ میں دوسروں سے خدمت لوں اور دوسروں کا کام یہ ہے کہ وہ میری غلامی اختیار کریں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ تمام اخلاق فاضلہ اس کی نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔پس چونکہ بہت سی ایسی چیزیں تھیںجن سے تکاثر نے انسان کو محروم کر دینا تھا اس لئے اگر یہ کہا جاتا کہ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ عَنِ اللہِ یا کہا جاتا اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ عَنْ صِفَاتِ اللہِ یاکہا جاتا اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُعَنْ مَلٰٓئِکَۃِ اللہِ یا کہا جاتا اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ عَنْ اَنْبِیَآءِ اللہِ یا کہا جاتا اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ عَنِ الْاَخْلَاقِ یا کہا جاتا اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ عَنِ الْعِبَادَاتِ یا کہا جاتا اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُ عَنِ التَّارِیْـخِ تو ایک لمبا مضمون بن جاتا اور پھر بھی اپنے بیان میں ناقص اور نا تمام ہی رہتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو مجمل الفاظ میں بیان کیا اور اَلْھٰی کے بعد عَنْ کا ذکر نہیں کیا یعنی یہ بیان نہیں کیا کہ