تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 189

کثرت سے مغرور بنادیا ہے۔درحقیقت دونوں صلوں کو چھوڑ دینے سے ایک بہت بڑا مضمون بیان کیا گیا ہے۔(۱) اگر اس چیز کا بھی ذکر کردیا جاتا جس سے تکاثر نے ان کو غافل کردیا تھا تو مضمون محدود ہوجاتا اور اس اجمال میں جو فصاحت پائی جاتی ہے وہ جاتی رہتی کیونکہ تکاثر کسی ایک نیک بات سے نہیں بلکہ ہرنیک بات سے انسان کو غافل کردیتا ہے۔تکاثر کے معنے ہوتے ہیں ذاتیات کا غلبہ۔آخر دنیا میں کیوں ایک انسان دوسرے پر فخر کرتا ہے۔اسی لئے کہ بجائے اللہ تعالیٰ کا فضل دیکھنے کے وہ اپنی ذات کی بڑائی دیکھنے لگ جاتا ہے۔وہ اس بات کو بھول جاتا ہے کہ اگر اس میں کوئی خوبی پائی جاتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔اگر اس میں کوئی کمال پایا جاتا ہے تووہ خدا تعالیٰ کا عطیہ ہے۔اس کی نگاہ ان تمام باتوں کو نظر انداز کرکے صرف ذاتی بڑائی کو اپنے سامنے رکھ لیتی ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ اس نے جو کچھ حاصل کیا ہے اپنے زورِ بازو سے حاصل کیا ہے۔پس دوسروں پر فخر کرنے کا سب سے پہلا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کے سامنے صرف اس کی ذاتی بڑائی رہ جاتی ہے خدا تعالیٰ کا فضل جو تمام ترقیات کا اصل باعث ہوتا ہے اسے بھول جاتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بڑائی بیان کی اور پھر فرمایا میں کوئی فخرنہیں کرتا کیونکہ مجھے یہ خوبی محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوئی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ مومن باوجود بڑائی حاصل ہونے کے تفاخر سے کام نہیں لیتا۔کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ جو چیز میرے لئے موجب فخر ہے وہ مجھے خودبخود حاصل نہیں ہوئی بلکہ میرے اندر اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔لیکن غیرمومن ایسا نہیں کرتا اس لئے جب کسی انسان کے اندر تکاثر پیدا ہوگا اور وہ اپنی کثرت پر فخر کرے گا یا اپنی عزت پر فخر کرے گا یا اپنے مال پر فخر کرے گا یا اپنی طاقت پر فخر کرے گا تو لازمی طور پر خدا تعالیٰ کا وجود اس کی نظر سے اوجھل ہوجائے گا اور وہ سمجھے گا کہ یہ کام میں نے کیا ہے۔پس تکاثر کی وجہ سے ایک تو خدا تعالیٰ کے فضل انسانی نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں پھر اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی ذات بھی اوجھل ہوجاتی ہے۔جو شخص شور مچارہا ہو کہ میں بڑا، میں بڑا۔اسے لازمی طور پر اپنے سے بڑا اورکوئی وجود نظر ہی نہیں آتا۔ورنہ کیا سورج کے سامنے کھڑے ہوکر بھی کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ دیکھو میرا دیا کتنا روشن ہے؟ رات کے وقت تو لوگ بے شک اپنے لیمپ کی روشنی پر فخر کرسکتے ہیں مگر دن کو نہیں۔اور اگر کوئی دن کے وقت بھی اپنے دِئے پر فخر کرتا ہے تو اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ سورج اس کی نگاہوں سے اوجھل ہے ورنہ یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ سورج بھی اسے نظر آتا اور وہ اپنے دِئے پر بھی فخر کرسکتا۔اسی طرح جب کوئی شخص اپنی ذات کو دنیا میں بڑا دیکھتا ہے تو اس کا سوائے اس کے او رکوئی مفہوم نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اس کی نگاہ سے اوجھل ہوچکا ہے۔گویا تکاثر کے نتیجہ میں