تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 188
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں ) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں) اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ۰۰۲ تم کو ایک دوسرے سے بڑھنے کی خواہش نے غفلت میں ڈال دیا حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ۰۰۳ (اور تم اسی طرح غافل رہو گے) یہاں تک کہ تم مقبروں میں جا پہنچو گے۔حلّ لُغات۔اَلْهٰىكُمُ۔اَلْھَاہُ اللَّعْبُ عَنْ کَذَا کے معنے ہوتے ہیں شَغَلَہٗ۔لہو و لعب نے اس کو دوسری طرف مشغول کردیا (اقرب) گویا جب کوئی چیز انسان کی توجہ کو ایک طرف سے ہٹا کر دوسری طرف پھیر دے تو عربی زبان میں اس کے لئے اَلْہٰی کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔تَکَاثُرٌ۔اَلتَّکَاثُرُ کثرت سے نکلا ہے اور اس کے معنے کثرت میں مقابلہ کرنے کے ہوتے ہیں۔چنانچہ تَکَاثَرَ الْقَوْمُ کے معنے ہوتے ہیں کَثُـرُوْا وَ تَغَالَبُوْا فِی الْکَثْـرَۃِ۔قوم زیادہ ہوگئی اور دوسروں کے مقابلہ میں اس نے اپنی کثرت پر فخر کیا اور کہا کہ ہم تم سے زیادہ ہیں (اقرب)۔اسی طرح مفردات میں لکھا ہے اَلْھٰکُمْ اَیْ شَغَلَکُمْ التَّبَارِیْ فِیْ کَثْـرَۃِ الْمَالِ وَالْعِزِّ۔تکاثر کے معنے ہوتے ہیں ایک دوسرے کا مقابلہ مال اور عزت کی کثرت میں کرنا یعنی یہ کہنا کہ ہمارا مال زیادہ ہے یا ہماری عزت زیادہ ہے۔تم ہمارے مقابلہ میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہو۔پس اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ کے معنے یہ ہوئے کہ تم کو ایک دوسرے سے مال، عزت اور تعداد میں زیادہ ہونے کے فخر نے غافل کردیا ہے یا بعض دوسری چیزوں سے تمہاری توجہ ہٹاکر اپنی طرف پھیر لیا ہے۔تفسیر۔اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ کے وسیع مطالب محاورئہ زبان میں ہمیشہ اَلْھٰی کے بعد عَنْ آتا ہے یعنی اَلْھَاہُ عَنْ کَذَا۔اسی طرح تکاثر کے بعد فِیْ آتا ہے یعنی جس چیز کے بارہ میں فخرہے اس سے پہلے فِیْ آتا ہے اور جس چیز سے کوئی چیز غافل کردے اس سے پہلے عَنْ آتا ہے۔مگر قرآن کریم نے دونوں صلوں کو چھوڑ دیا ہے یعنی اس نے نہ تو یہ کہا ہے کہ تم کو تکاثر نے کسی چیز سے غافل کردیا ہے اور نہ یہ کہا ہے کہ تمہیں اپنی کسی چیز کی