تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 187

سمجھ جائے جس کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے سلسلۂ نبوت قائم کیا ہے اورجس کو پورا کرنے کے لئے آدمؑ سے لے کر وہ اپنے مامورین دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجتا رہا ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ یہ سورۃ ہزار آیات کے برابر ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم اس سورۃ پر غور کرو اور اس کے مطالب کوہمیشہ اپنے مدــنظر رکھو تو تمہارے متعلق یہ کہا جا سکے گا کہ تم نے اس سورۃ سے وہ فائدہ اٹھا لیا جو سارے نبیوں کی بعثت کی اصل غرض ہے۔نبیوں کی بعثت کی غرض یہ ہوتی ہے کہ دنیا کی محبت لوگوں کے دلوں سے نکال دیں اور اللہ تعالیٰ کا عشق ان میں پیدا کریں۔پس جب کوئی شخص اس سورۃ پر غور کرے گا اور حالت سیّئہ سے لوٹ کر حالت طیّبہ کی طرف آئے گا تو لازماً وہ اس مقصد کو حاصل کر لے گا جس کے لئے قرآن کریم نازل ہوا اور جس کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ابتدائے عالم سے سلسلۂ نبوت قائم فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اپنی کتابوں اور تقریروں میں اس بات پر بڑا زور دیا ہے کہ انبیاء کی بعثت کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ دنیا کی محبت سرد کر کے خدا تعالیٰ کی محبت لوگوں کے قلوب میں پیدا کریں۔پس سورئہ تکاثر نبوت کی اصل غرض بیان کرنے والی سورۃ ہے اور جو شخص اس سورۃ کے مطالب کو اپنے مدّ ِ نظر رکھتا ہے وہ اپنی حالت کو نبیوں کی حالت کے مشابہ بنالیتا ہے۔سورۃ تکاثر کے متعلق ایک روایت اس سورۃ کے مضمون کے متعلق بعض اور بھی روایات ہیں چنانچہ عبداللہ بن شخیرؓ بیان کرتے ہیں اِنْتَـھَیْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہ وَسَلَّمَ وَھُوَ یَقْرَأُ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ وَفِیْ لَفْظٍ وَقَدْ اُنْزِلَتْ عَلَیْہِ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ وَھُوَ یَقُوْلُ۔یَقُوْلُ ابْنُ اٰدَمَ مَالِیْ مَالِیْ وَھَلْ لَّکَ مِنْ مَّالٍ اِلَّا مَا اَکَلْتَ فَاَفْنَیْتَ (یہ روایت مسلم، ترمذی اور نسائی تینوں میں آتی ہے) یعنی میں ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ پڑھ رہے تھے۔ایک دوسری روایت میں یہ ذکر آتا ہے کہ قَدْ اُنْزِلَتْ عَلَیْہِ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ آپ پر اس وقت سورئہ تکاثر نازل ہوئی تھی (غالباً اسی روایت سے متاثر ہوکر امام بخاری نے اس سورۃ کو مدنی قرار دیاہے) اور آپ فرمارہے تھے کہ ابن آدم کہتاہے ہائے میر امال۔ہائے میرامال۔اس کے بعد آپ نے اپنے دماغ میں ایسے انسان کا خیالی وجود مستحضر کرتے ہوئے فرمایا وَھَلْ لَّکَ مِنْ مَّالٍ اِلَّا مَا اَکَلْتَ فَاَفْنَیْتَ۔اے اس قسم کے انسان! کیا اس کے سوا تیرا اور بھی کوئی مال ہے جو تو نے کھایا اور ضائع کردیا یعنی تجھے اسی مال سے تعلق ہے جو تو نے کھالیا اور جو تو نے کھالیا وہ باقی تو رہا نہیں۔مسلم نے حضرت ابوہریرہؓ سے بھی یہ روایت نقل کی ہے مگر اس میں یہ ذکر نہیں آتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ پڑھ رہے تھے یا یہ کہ سورئہ تکاثر اس وقت آپ پر نازل ہوئی تھی۔اس حدیث کے الفاظ لمبے ہیں۔