تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 186

تم میں سے کوئی شخص یہ طاقت نہیں رکھتا یعنی کیوں ایسا نہیں کرتا کہ وہ ہزار آیتیں روزانہ پڑھ لیا کرے صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ یہ طاقت کس انسان کو حاصل ہو سکتی ہے کہ وہ ہزار آیات روز پڑھ سکے۔آپؐنے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ روزانہ پڑھ لیا کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ تکاثر کو ہزار آیات کے برابر بتایا ہے۔اسی طرح حضرت عمرؓ سے روایت ہے قَالَ قَالَ رَسُوْلُ ا للہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَاَ فِیْ لَیْلَۃٍ اَلْفَ اٰیَۃٍ لَقِیَ اللہَ وَھُوَ ضَاحِکٌ فِیْ وَجْھِہٖ۔قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اللہِ وَ مَنْ یَّقْوٰی عَلٰی اَلْفِ اٰیَۃٍ فَقَرَاَ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ اِلٰی اٰخِرِھَاثُمَّ قَالَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِــیَــدِہٖ اِنَّـــھَــا لَــتَعْدِلُ اَلْفَ اٰیَۃٍ۔اَخْرَجَہُ الْـخَطِیْبُ فِی الْمُتَّفَقِ والْمُفْتَرَقِ وَالدَّیْلَمِیْ ( فتح البیان سـورۃ الــتــکاثر ابتدائیۃ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص روزانہ رات کو ہزار آیات پڑھ لیا کرے وہ اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ خدا اسے دیکھ کر خوش ہو گا۔صحابہؓ نے عرض کیا یارسول اللہ یہ طاقت کس انسان کو حاصل ہو سکتی ہے کہ وہ ہزار آیات روزانہ پڑھا کرے۔اس پر آپ نے سورئہ تکاثر کی تلاوت شروع کر دی یہاں تک کہ آپ اس کے آخر تک پہنچ گئے۔پھر آپ نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ سورۃ ہزار آیات کے برابر ہے۔(یہ روایت خطیب اور دیلمی دونوں نے نقل کی ہے) ان احادیث کا مطلب یہ ہے کہ دو قسم کے زمانے ہوتے ہیں اور دو قسم کے تکاثر ہوتے ہیں۔ایک زمانہ میں ایسا تکاثر ہوتا ہے جو قومی زندگی کا موجب ہو جاتا ہے اور دوسرے زمانہ میں ایسا تکاثر ہوتا ہے جو قومی تباہی کا موجب ہو جاتا ہے۔چونکہ اس سورۃ میں اس تکاثر کا ذکر کیا گیا ہے جو قومی تباہی کا موجب ہوتا ہے اور اگر کوئی شخص نصیحت حاصل کرنا چاہے تو وہ اس سورۃ کے مطالب پر عمل پیرا ہو کر اس تباہی سے محفوظ رہ سکتا ہے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہزار آیات کا قائم مقام قرار دیا ہے۔سورۃ تکاثر کو ہزار آیات کے برابر قرار دینے کی وجہ اس جگہ ہزار آیات سے قرآن کریم کا چھٹا حصہ مراد نہیں ( کیونکہ سارے قرآن کی قریباً چھ ہزار آیات ہیں ) بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو غرضِ قرآن ہے وہ اس سورۃ میں بیان کر دی گئی ہے کیونکہ عربی زبان میں ہزار سے صرف ہزار کا عدد مراد نہیں ہوتا بلکہ ان گنت اور بے انتہا چیز کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور ان گنت اور بے انتہا فائدہ انسان اسی وقت اٹھا سکتا ہے جب وہ اس غرض کو