تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 166
بجائے ضمیر لانے کے اللہ تعالیٰ نے جو اسم کو دہرایا ہے یہ بھی اس عذاب کی عظمت کے اظہار کے لئے ہے مَاالْقَارِعَةُ میں بجائے ضمیر لانے کے اسم کو دہرانے میں حکمت یہ ہے کہ جب ضمیر آئے تو اصل لفظ اوجھل ہوجاتا ہے مثلاً کہتے ہیں جَاءَ زَیْدٌ فَقُلْتُ لَہٗ زید میرے پاس آیا اور میں نے اسے کہا۔اب یہ ظاہر ہے کہ زید کا لفظ جتنی حقیقت ظاہر کرتا ہے اتنی حقیقت ضمیر ظاہر نہیں کرتی۔یہ کہنا کہ میں نے زید سے کہا اور یہ کہنا کہ میں نے اس سے کہا گو مفہوم کے لحاظ سے کوئی فرق پیدا نہ کرے مگر زید کا لفظ دہرانے سے جو اثر پڑتا ہے وہ محض ضمیر سے نہیں پڑتا۔اس جگہ بھی اَلْقَارِعَةُ کے بعد مَا الْقَارِعَةُ میں بجائے ضمیر لانے کے اسم کو دہرادیا گیا ہے۔جس سے اس کی عظمت کی طرف اشارہ کرنا مدّ ِ نظر ہے اور اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ ایسی عظیم الشان چیز ہے کہ انسانی نظروں سے غائب ہی نہیں ہوسکتی۔ضمیر جب بھی آئے گی غائب کے لئے آئے گی۔لیکن وہ مصیبت اتنی بڑی ہوگی کہ انسان یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ مَاھِیَ اگر وہ ایسا کہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔مگر ایسانہیں ہوگا۔پس مَا الْقَارِعَةُ نے یہ بتادیا کہ وہ بھولنے والی چیز نہیں، نظروں سے اوجھل ہونے والی چیز نہیں اسی لئے ضمیر کی بجائے اصل لفظ دہرا کر اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم اسے بھولو گے نہیں وہ نہایت عظیم الشان مصیبت ہوگی۔الغرض دو چیزوں سے اس قارعہ کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ایک ’’مَا ‘‘ سے اور ایک ضمیر کی بجائے دوبارہ اسی لفظ کو دہرانے سے۔اگر صرف ’’مَا ‘‘ کا لفظ آتا تب بھی اس قارعہ کی عظمت کا ثبوت ہوتا مگر مَا الْقَارِعَةُ سے اس کی دوہری عظمت بیان کردی گئی ہے کہ انسان حیران ہوکر کہتا ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا یہ کیا چیز ہے۔دوسرے وہ اتنی عظیم الشان چیز ہوگی کہ اس کی ہیبت انسانی نظروں سے اوجھل نہیں ہوگی۔جیسے دنیا میں جب کوئی بڑی عظیم الشان مصیبت آتی ہے تو لوگ کہتے ہیں ہر وقت آنکھوں کے سامنے وہ نظارہ پھرتا ہے۔اسی طرح وہ مصیبت عظمیٰ اتنی شدید ہوگی کہ بھولے گی نہیں۔ہر وقت لوگوں کی آنکھوں کے سامنے رہے گی۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُ کہہ کر اللہ تعالیٰ پھر تیسری بار اس کی عظمت کو بیان کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ اتنا بڑا واقعہ ہوگا کہ اس کی حقیقت کا سمجھنا انسان کے لئے بالکل ناممکن ہے الفاظ میں اس کو ادا ہی نہیں کیا جاسکتا۔یہ ویسا ہی بیان ہے جیسے حدیثوں میں جنت کے متعلق آتا ہے کہ لَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَـمِعَتْ وَمَا خَطَرَ بِقَلْبِ بَشَـرٍ۔(بخاری کتاب التفسیر سورۃ السجدۃ ) نہ آنکھوںنے ایسا دیکھا ہے نہ کانوں نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے واہمہ نے اس کا نقشہ کھینچا ہے۔اسی مضمون کی طرف قرآن کریم نے بھی ان الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ (السجدۃ: ۱۸) یعنی جو کچھ جنت میں ملنے والا ہے کوئی شخص اس