تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 167

اس کے کمال پر دلالت کرتاہے یعنی شدید آواز یا شدید مصیبت۔الف لام کبھی کمال کے اظہار کے لئے آتا ہے یعنی یہ بتانے کے لئے کہ اس لفظ سے جو حقیقت ظاہر ہوتی ہے وہ اس مسمّٰی میں بکمال و تمام پائی جاتی ہے۔اس جگہ الف لام اسی مضمون کو ادا کرتا ہے اورمراد یہ ہے کہ وہ بہت بڑی مصیبت ہوگی۔پھر مَا الْقَارِعَةُ کہہ کر دوسری دفعہ اس کی عظمت کا اظہار کیا اور وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُ کہہ کر تیسری دفعہ بتایا کہ ابھی اس کی عظمت کا پورا ذکر نہیں ہوا۔درحقیقت وہ اتنی بڑی شے ہے کہ کوئی شخص اس کی حقیقت کو صرف الفاظ سے سمجھ ہی نہیں سکتا اس لئے آج تم اس کی حقیقت کو پوری طرح نہیں سمجھ سکتے۔یہ بات ظاہر ہے کہ جس چیز کی حقیقت کو انسان سمجھ نہیں سکتا یا جس کی عظمت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہوتا ہے جب اس چیز کا ذکر کیا جائے تو لازماً یا تو تمثیل سے کام لینا پڑتا ہے یا پھر اس کے بعض نتائج بیان کردیئے جاتے ہیں۔مثلاً کوئی بڑا عمدہ نظارہ ہو اور انسان اس کوایسے قویٰ سے دیکھے جو روحانی ہوں ظاہری قویٰ اس کو نہ دیکھ سکتے ہوں تو دوسروں کے سامنے جب وہ اس نظارہ کا ذکر کرنے لگے گا تمثیلات میں بیان کرنے کی کوشش کرے گا۔لیکن کبھی تمثیلات میں بیان کرنے کی بجائے اس چیز کے اثرات بیان کردیئے جاتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا وجود مادی آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔حضرت عائشہؓ نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا نُوْرٌ اَنّٰی اَرَاہُ (مسلم کتاب الایمان باب فی قولہٖ علیہ السلام نُوْرٌ اَنّٰی اَرَاہُ) اللہ تعالیٰ تو ایک نور ہے اسے میں کس طرح دیکھ سکتا ہوں۔جہاں تک مادی آنکھوں یا جسمانی قویٰ سے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا سوال ہے یہ ایک یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو نظر نہیں آسکتا۔لیکن دوسری طرف اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ رویت باری تعالیٰ کا مسئلہ درست ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو نظر بھی آ جاتا ہے۔لیکن بہر حال وہ اسی طرح نظر آتا ہے کہ یا تو انسان اس کی صفات سے رویت کرتا ہے اور یا کسی تمثیلی نظارہ میں اللہ تعالیٰ کے وجود کو دیکھ لیتا ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میںنے خدا تعالیٰ کو ایک نوجوان کی صورت میں دیکھا ہے (کنز الایمان کتاب الایمان والاسلام الباب الثالث فی لواحق کتاب الایمان )۔پس ایک صورت تو یہ ہوتی ہے کہ تمثیلی رنگ میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا جائے اور دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ صفات الٰہیہ پر غور کرتے ہوئے اس کی رویت کی جائے۔جب ہم صفت رب پر غور کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کا وجود ہمارے قریب ہو جاتا ہے۔جب ہم صفت رحمانیت پر غور کرتے ہیں تو اس کا وجود ہمارے اور زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔جب ہم صفت رحیمیت پر غور کرتے ہیں تو وہ ہمارے اور قریب آجاتا ہے۔اسی طرح جب ہم اس کی مالکیت پر غور کرتے ہیں تو وہ اور زیادہ