تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 165
اَلْقَارِعَۃ وہ عذاب ہے جو کسی نبی کی صداقت کے لئے آئے اوپر کی تمام آیات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اَلْقَارِعَۃُـ وہ عذاب ہے جو کسی نبی کی صداقت کے اظہار کے لئے آئے خواہ وہ اس کے یا اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں سے ظاہر ہو۔جیسے سورئہ رعد میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَ لَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ۔یہ قارعہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے اور آپ کے ہی تیار کردہ ہوتے تھے۔اور خواہ یہ بلاواسطہ الٰہی فعل سے ظاہر ہو۔جیسا کہ سورۃ الحاقہ سے پتہ چلتاہے کہ ثمود پر زلزلہ آیا اور وہ ہلاک ہوگئے۔یہ ایک بلاواسطہ الٰہی فعل تھا کسی انسان کا اس میں دخل نہیں تھا یا عاد پر ہوا چلی اور وہ ہلاک ہوگئے۔یہ بھی ایک بلاواسطہ الٰہی فعل تھا کیونکہ کوئی انسان یہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہ ہوا چلا کر دوسروں کو ہلاک کرسکے۔اور خواہ کسی ایسے الٰہی فعل سے ہو جس میں انسانوں کو واسطہ بنا لیا گیا ہو جیسا کہ میرے نزدیک اس سورۃ میں قارعہ سے ایسا عذاب ہی مراد ہے جو ہے تو الٰہی فعل کا نتیجہ مگر اس میں انسانوں کو بھی واسطہ بنالیا گیا ہے۔قارعہ ایسے عذابوں کو اس لئے کہا جاتا ہے کہ قَرْعٌ کے معنے دستک دینے اور ٹھکرانے کے ہوتے ہیں۔جب لوگ خدا تعالیٰ کے مامور کی آواز نہیں سنتے اور روحانی طور پر سوئے رہتے ہیں تو خدا تعالیٰ دستک دے کر جگانے کے لئے کچھ عذاب بھجواتا ہے۔ان دستکوں سے آخر وہ روحانی نیند سے بیدار ہوجاتے ہیں اور رسول کی آواز سننے کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔پس قارعہ وہ عذا ب ہیں جو نبیوں کو منوانے کے لئے دنیا میں آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلْقَارِعَةُ دنیا میں ایک قارعہ آنے والی ہے۔پھر فرماتا ہے مَا الْقَارِعَةُ یہاں مَا اظہار تفخیم کے لئے آیا ہے اورمراد یہ ہے کہ کیا ہی عظیم الشان وہ قارعہ ہے۔جب انسان کسی چیز کی حقیقت سمجھنے سے قاصر رہ جاتا ہے تو کہتا ہے ’’کیابلا آگئی‘‘ یا ’’کیا مصیبت آگئی‘‘ اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ کسی سے اس بارہ میں پوچھتا ہے بلکہ اس جملہ سے اس کا مقصود مصیبت کی شدت کا بیان کرناہوتا ہے۔اردو میں بھی محاورہ ہے کہ بعض دفعہ کسی چیز کی عظمت بیان کرنے کے لئے تکرار سے کام لیا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے۔مصیبت۔کیا بتائوں کیسی مصیبت۔بلا کیا بتائوں کیسی بلا۔پس اَلْقَارِعَةُ کے بعد مَا الْقَارِعَةُ میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ مصیبت جس کا ہم ذکر کررہے ہیں معمولی نہیں بلکہ نہایت عظیم الشان ہوگی۔مَا الْقَارِعَةُ میں دوبارہ قارعہ کا لفظ دوہرانے میں ایک حکمت خود قَرْعٌ کا لفظ بھی عظیم الشان آواز اور عظیم الشان تباہی پر دلالت کرتا ہے۔لیکن مَا الْقَارِعَةُ نے بتادیا کہ عذاب کی جس قدر شدت قارعہ کے لفظ سے ظاہر ہوتی ہے وہ قارعہ خود اس سے بھی زیادہ شدید عذاب ہے حتی کہ انسان اس پر حیران ہوکر رہ جائے گا۔اس جگہ