تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 164

اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔اس جگہ قَارِعَۃ سے مراد وہ لشکر ہیں جو متواتر اِدھر اُدھر دشمنانِ اسلام پر حملہ آور ہوتے رہے۔ان لشکروں کے ذکر سے چونکہ یہ شبہ پیدا ہوتا تھا کہ شاید اسلام نے جارحانہ حملے کئے ہیں اس لئے جہاں اس آیت میں غزواتِ اسلامیہ کے متعلق مخفی پیشگوئی فرمائی گئی وہاں اس شبہ کا بھی ازالہ کردیا گیا۔چنانچہ فرماتا ہے تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا یہ لشکر کشی کفار کے حملوں کا نتیجہ ہوگی مسلمانوں کی طرف سے ابتدا نہ ہوگی۔ہاں جب مسلمان جواب دینا شروع کریں گے تو کفار کی شرارت ایسی دب جائے گی کہ وہ روز بروز کمزور ہوتے جائیں گے اور اسلام بڑھتا جائے گا اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا یہاں تک کہ ایک دن اسلامی لشکر مکہ کے پاس جاکر اترے گا اور انہیں فتح حاصل ہوجائے گی۔قرآن مجید میں لفظ قارعہ کا استعمال دوسری جگہ سورۃ الحاقہ میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ۔فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِيَةِ۔وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ (الحاقۃ: ۵تا۷) ثمود اور عاد نے قَارِعَۃ کا انکار کیا فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِيَةِ پس ثمود تو ایک ایسے عذاب سے ہلاک کئے گئے جو انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔وَاَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ اور عاد پر ایک شدید ہوا چلائی گئی۔اس قدر شدید کہ اس سے ہیبت ناک آواز پیدا ہوتی تھی۔اس ہوا نے ان کو ہلاک کردیا۔یہاں دو الگ الگ قسم کے عذاب بیان کئے گئے ہیں اور دونوں کا نام قَارِعَۃ رکھا گیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ قَارِعَۃ کا لفظ اَلدَّاہِیَۃُ اور اَلــنَّــکْــبَــۃُ الْــمُــھْــلِکَــۃُ کے معنوں میں آیا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ مضمون بیان فرماتا ہے کہ ثمود اور عاد دونوں قوموں کے نبیوں نے لوگوں سے کہا کہ تم ہمارا انکارنہ کرو۔اگر تم انکارکرو گے تو مصائب میں مبتلا ہوجائو گے۔مگر انہوں نے کوئی پرواہ نہ کی اور انبیاء کی باتیں ماننے سے انکار کردیا۔اس پر ان نبیوں نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر عذاب آئے گا اور تم تباہ کردیئے جائو گے۔بجائے اس کے کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کرتے اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے وہ اور بھی ہنسی مذاق کرنے لگے۔آخر ثمود پر تو اللہ تعالیٰ نے ایک زلزلہ عظیمہ بھیجا جس سے وہ تباہ ہوگئے اور عاد پر ایک شدید ہوا چلائی گئی جس نے ان کو تباہ کردیا۔چنانچہ اب تک آثار قدیمہ والے جب ان علاقوں کی زمینیں کھودتے ہیں تو ریت کے تودوں کے نیچے سے بڑے بڑے شہر نکل آتے ہیں۔آیت زیر تفسیر میں بھی قَارِعَـۃـ کا لفظ اَلنَّکْبَۃُ الْمُـھْــلِکَــۃُ کے معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے یعنی ایسی مصیبت جو ہلاک کردینے والی ہو۔