تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 163
الْبَابَ کے معنے ہیں دَقَّہٗ دروازہ پر دستک دی اور قَرَعَ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں ضَـرَبَہٗ کسی چیز کو مارا اور قَرَعَ صِفَاتَہٗ کے معنے ہوتے ہیں تَنَقَّصَہٗ وَعَا بَہٗ اس کی صفات کی تنقیص کی اور اس پر عیب لگایا اور قَرَعَ زَیْدًا اَمْرٌکے معنے ہوتے ہیں اَتَاہُ فَـجْأَۃً اچانک کوئی معاملہ اس سے پیش آگیا اور قَرَعَ السَّھْمُ الْقِرْطَاسَ کے معنے ہوتے ہیں اَصَا بَہٗ ہدف پر تیر لگ گیا (اقرب) گذشتہ مفسرین نے قَارِعَۃ کے معنے قیامت کے کئے ہیں اور چونکہ قَرْعٌ کے ایک معنے شدید آواز کے بھی ہیں گو عام لغت کی کتب میں یہ معنے نہیں نکلے مگر تفاسیر میں قَرْعٌ کے معنے شدید آواز کے بھی بتائے گئے ہیں۔اس وجہ سے بعض مفسرین نے قَارِعَۃ کے معنے یہ بھی کئے ہیں کہ اس سے مراد اسرافیل کی وہ گرج ہے جو قیامت کے قریب ہوگی اور جس سے سب لوگ مر جائیں گے ( فتح البیان سورۃ القارعۃ )۔قَرَعَ کے معنے تو اوپر بیان ہوچکے ہیں۔لیکن اَلْقَارِعَۃُـ کی شکل میں اس لفظ کے کچھ الگ معنے بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ اَلْقَارِعَۃُـ کے ایک معنے قیامت کے بھی کئے گئے ہیں کیونکہ وہ مختلف قسم کے صدمات اور تخویف کے سامان اپنے ساتھ لائے گی۔اسی طرح اس کے ایک معنے اَلدَّاہِیَۃُ کے بھی ہیں یعنی اچانک آنے والی کوئی عظیم الشان مصیبت اور اَلْــقَــارِعَــۃُـ کے معنے اَلــنَّــکْــبَــۃُ الْــمُــھْــلِکَــۃُ کے بھی ہیں یعنی ہلاک کردینے والی مصیبت اور اَلْقَارِعَۃُـ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوٹے چھوٹے لشکروں کو بھی کہتے ہیں جن کو اصطلاحاً سرایا کہا جاتا ہے۔عام اصطلاح میں تو سریہ اس کو کہتے ہیں جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شامل نہ ہوں مگر اس کے اصل معنے چھوٹے چھوٹے لشکروں کے ہیں (اقرب)۔تفسیر۔قرآن کریم میں قَارِعَۃ کا لفظ تین موقعوں پر آیا ہے (۱) سورئہ رعد (۲) سورۃ الحاقہ (۳) زیر تفسیر آیت۔سورئہ رعد رکوع ۴ میں آتا ہے وَ لَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ۔(الرّعد:۳۲)۔یعنی کفار کی حالت برابر اس طرح رہے گی کہ ان کے اعمال کی وجہ سے یعنی ان تکالیف اور تعذیب کے ایک لمبے سلسلہ کی وجہ سے جو مسلمانوں کو مٹانے کے لئے انہوں نے جاری کیا ہوا ہے۔یکے بعد دیگرے ان کے اوپر لشکرحملہ آور رہیں گے اوراس طرح ان پر ضرب پر ضرب پڑے گی اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ یا پھر اسلامی لشکر ایک دن ان کے گھروں کے پاس آکر اترے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ آجائے گا یعنی کفار کی شکست اور اسلام کی فتح کا دن۔پھر فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ۔