تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 12
طرح ایک غریب شخص قربانی کی استطاعت نہ رکھنے کی صورت میں صرف بال منڈوا کر اور ناخن ترشوا کر قربانی کے ثواب میں شریک ہو سکتا ہے اسی طرح وہ شخص جس کا حافظہ اور صحت زیادہ قرآن حفظ کرنے کی اجازت نہیں دیتے اس کا سورئہ زلزال کو یاد کر لینا ہی نصف قرآن کے ثواب کے برابر ہے پس بے شک سورۃ الزلزال یا سورۃ الاخلاص یا سورۃ الکافرون یا سورۃ النصر کے یاد کر لینے سے انسان کو نصف القرآن یا ثلث القرآن یا ربع القرآن کا ثواب مل جاتا ہے مگر ہر ایک کو نہیں۔اس کمزور انسان کو جس کو صرف سورۃ الزلزال ہی یاد ہو سکتی تھی یا سورۃ الاخلاص ہی یاد ہو سکتی تھی یا سورۃ الکافرون اور سورۃ النصر ہی یاد ہو سکتی تھیں وہ اگر سورۃ الزلزال پڑھ لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حضور وہ ویسا ہی سمجھا جائے گا جیسے اس نے نصف قرآن پڑھ لیا۔پس یہاں معانی کا سوال نہیں نہ ہرشخص کا سوا ل ہے بلکہ صرف معذور کے لیے ثواب حاصل کرنے کا ایک رستہ کھولا گیا ہے۔غرض اس شخص کو خاص طور پر بلا کر وہ حکم بتانا جو نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور جہاد سے بہت کم ہے صاف بتاتا ہے کہ آپ کا منشاء یہ تھا کہ یہ حکمت اس پر اور دوسروں پر واضح ہو جائے اور وہ اس دھوکے میںنہ پڑ جائیں کہ زلزال یا کوئی اور سورۃ درحقیقت نصف یا ثلث یا ربع قرآن کے برابر ہو سکتی ہے اس لیے ہمیں قرآن پڑھنے کی ضرورت نہیں۔قرآن مجید کی سورتوں کے دولت قرار دینے میں حکمت (۲)دوسرا نقطہ قابلِ توجہ ان احادیث میں یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی چند سورتوں کے یاد ہونے کو ایک دولت قرار دیا ہے اس سے ایک طرف تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان اپنی رسالت پر ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اس کلام کو جو آپ پر نازل ہوتاتھا کس قدر قیمتی سمجھتے تھے کہ جسے اس کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی یاد ہو اس کی نسبت خیال فرماتے تھے کہ وہ اپنی ہرضرورت کو پورا کر سکتا ہے اور محتاجوں اور ناداروں میں شامل کئے جانے کے قابل نہیں۔یہ ایمان محض آپ کی راست بازی کا ہی ثبوت نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اس امر کا بھی ثبوت ہے کہ اس کلام نے آپ کے جسم کے ذرہ ذرہ پر قابو پا لیا تھا اور آپ اس کی اہمیت کو ہر دوسری شے پر مقدم سمجھتے تھے۔(ب) اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہؓ کے ایمان پر بھی بڑا بھروسہ تھا اور آپ یقین رکھتے تھے کہ آپ کے صحابہ بھی قرآن کریم کو ایک عظیم الشان دولت سمجھتے ہیں۔اگر آپ کے صحابہؓ اس خیال کے نہ ہوتے تو آپ کا اس صحابی کو یہ کہنا کہ جب تجھے چند سورتیں یاد ہیں تو تُو نکا ح کربے معنے ہو جاتا ہے کیونکہ کوئی لڑکی ہی نہ دے گا تو وہ نکاح کیونکر کرے گا۔اگر لڑکیاں اور لڑکیوں کے ماں باپ بھی قرآن کریم کو