تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 11
اس پر پورے طور پر غور کر کے اس کا صحیح مفہوم نہ نکالا جائے تو ظاہر ی صورت میں یہ بات بالکل ویسی ہی بن جاتی ہے جیسے ایک لونڈی کے متعلق مشہور ہے کہ وہ رمضان میں روزانہ سحری کے وقت اٹھ کر بیٹھ جاتی اور سحری بھی کھاتی مگر روزہ نہیں رکھتی تھی۔گھر کی مالکہ رحم دل اور نیک سیرت عورت تھی اس نے سمجھا کہ یہ ہماری خاطر اٹھتی ہے تا کہ کام میں کچھ مدد دے سکے ورنہ اس کا منشاء اگر روزہ رکھنا ہوتا تو روزہ بھی رکھتی چونکہ یہ روزہ نہیں رکھتی اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ سحری کے وقت یہ ہماری خاطر ہی تکلیف کر کے اٹھ بیٹھتی ہے ایک دن مالکہ نے اس سے کہا تو نے روزہ تو رکھنا نہیں ہوتا اس لئے سحری کے وقت نہ اٹھا کرہم کام خود کر لیا کریں گے وہ کہنے لگی بی بی نماز میں نہیں پڑھتی روزہ میں نہیں رکھتی سحری بھی نہ کھائوں تو کافر ہی ہو جائوں۔جس طرح اس لونڈی نے نماز اور روزہ سے سحری مقدم کر لی تھی اسی طرح اس حدیث کا مفہوم یہ بن جاتا ہے کہ ایک تورات کو سورۂ زلزال پڑھ لی اور ایک عید کے دن قربانی کا بکرا کھا لیا بس اسلام کے سارے احکام پر عمل ہو گیا مگر اس حدیث کے ہرگز یہ معنے نہیں ہیں آپ کا اسے واپس بلانا اور اسلام کے اور تمام احکام کو نظر انداز کر کے صرف اتنا فرمانا کہ عید الاضحیہ کا بھی اسلام میں حکم پایا جاتا ہے اور پھر اس کے یہ کہنے پر کہ مجھے ایک اونٹنی تحفہ میں ملی ہوئی ہے کیا میں اسے قربان کر دوں آپ کا یہ فرمانا کہ تجھے جانور قربان کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اگر تو بال منڈواتا ہے مونچھوں کے بال ترشواتا ہے ناخن کٹواتا ہے زیر ناف بالوں پر اُسترا پھیرتا ہے تو یہ بھی تیری قربانی ہے درحقیقت اس لیے تھا کہ آپ اپنی پہلی بات کی حقیقت اور فلسفہ اسے اور دوسرے سننے والوں کو بتانا چاہتے تھے چنانچہ جب اس نے کہا کہ میرے پاس ایک اونٹنی ہے جو مجھے تحفہ کے طور پر ملی ہوئی ہے کیا میں اس اونٹنی کو ذبح کر دوں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تمہارے جیسے غریب آدمی کے لیے بال منڈوانا اور ناخن ترشوانا ہی قربانی کا مترادف ہے اور اس طرح بتا دیا کہ جس طرح بال منڈوانا اور ناخن ترشوانا ایسے آدمی کے لیے قربانی کے برابر ہے جس کو قربانی کی طاقت نہ ہو اسی طرح وہ شخص جس کا حافظہ کمزور ہے جس کی صحت خراب ہے یا جو بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکا ہے اور اس کی صحت حافظہ اور قویٰ زیادہ قرآن حفظ کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے اس کا سورۂ زلزال کو یاد کر لینا ہی بڑی سورتوں یاقرآن کریم کو یاد کر لینے کے برابر ہے۔یہ فلسفہ تھا جس کے بیان کرنے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس بڈھے کو واپس بلائو تا کہ وہ بھی اس فلسفہ سے آگاہ ہو جائے اور صحابہؓ بھی سمجھ لیں کہ میرا اس سے کیا منشاء ہے اگر معانی کی طرف اشارہ ہوتا تو طاقت والے کے لیے اور نہ طاقت والے کے لیے معانی کے لحاظ سے وہ سورۃ یکساں ہونی چاہیے تھی مگر آپ دونوں کے لیے ان سورتوں کا حفظ یکساں قرار نہیں دیتے بلکہ ایک مثال کے ذریعہ اس فرق کوواضح کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جس