تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 151
ہو کر کہنے لگا کہ پھر مقابلہ کروں گا۔استاد نے کہا اگر ساری عمر تم نے شیطا ن کے مقابلہ میں ہی گذار دی تو خدا تعالیٰ کے پاس کب پہنچو گے۔اس کے بعد انہوں نے اپنے شاگرد سے کہا اب مجھے ایک اور بات بتائو۔اگر تم اپنے کسی دوست سے ملنے کے لئے جائو اور اس کے صحن میں کتا ہو۔تم اندر داخل ہونے لگو تو وہ تمہاری ایڑی پکڑ لے تو اس وقت تم کیا کرو گے ؟اس نے کہا اگر میرے پاس ڈنڈا ہو گا تو میں اسے ڈنڈا ماروں گا پتھر پڑا ہو گا تو میں پتھراٹھا کر ماروں گا۔کہنے لگے بہت اچھا تم نے اسے مارا اور وہ علیحدہ ہو گیا۔لیکن جب پھر تم دوست کے دروازہ کی طرف بڑھنے لگے اور اس نے تمہیں پکڑ لیا تو تم کیا کرو گے۔کتا تو مکان کی حفاظت کے لئے ہوتا ہے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ تمہیں مکان کے اندر داخل ہونے دے؟ کہنے لگا میں پھر اس کا مقابلہ کروں گا اوراسے ہٹائوں گا۔انہوں نے فرمایا مان لیا کہ اب کی مرتبہ بھی وہ ہٹ گیا اور تم کامیاب ہو گئے لیکن اگر تیسری بار تم پھر بڑھنے لگے اور اس نے پھر تمہیں آپکڑا تو تم کیا کروگے ؟وہ کہنے لگا میں گھر والے کو آواز دوں گا کہ ذرا باہر نکلنا تمہارا کتا مجھے اندر آنے نہیں دیتا اسے روکوکہ میں اندر داخل ہو سکوں۔وہ بزرگ فرمانے لگے شیطان کا بھی یہی علاج ہے۔شیطان اللہ میاں کا کتا ہے جب وہ تمہاری ایڑی آپکڑے اور تمہیںاللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف بڑھنے نہ دے تو اللہ میاں کو ہی آواز دینا کہ شیطان مجھے آپ کے پاس آنے نہیں دیتا اسے روک لیں۔یہی طریق ہے جس سے شیطان تم پر حملہ کرنے سے رک سکتا ہے ورنہ تمہارے ہٹانے سے کیا بنتا ہے۔تم دس بار بھی ہٹائو گے تو وہ دس بار تم پر لوٹ لوٹ کر حملہ کرتا رہے گا۔اسی کی طرف فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا میں اشارہ کیا گیا ہے کہ سالک ادھر شیطان کا مقابلہ شروع کر تے ہیں۔اغارتیں کرتے ہیں۔تدابیر اور جدوجہد سے کام لیتے ہیں اور ادھر دعائیں شروع کر دیتے ہیں کہ خدایا ہم مر گئے آ اور ہماری مدد فرما! جب یہ دونوں باتیں ملتی ہیں تب اللہ تعالیٰ کی ملاقات میسر آتی ہے۔جیسے اس بزرگ نے کہا کہ دوست سے ملنا چاہتے ہو تو اس کا طریق یہ ہے کہ اپنے دوست سے کہو کہ وہ کتا پکڑ لے۔اسی طرح اگر تم ایک طرف کوشش اور جدوجہد سے کام لو گے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ سے انتہائی تضرّع اور عجز ونیاز کے ساتھ دعائیں مانگتے رہوگے تب دعوت شاہی پر جو لوگ پہلے بیٹھے ہیں ان میں تم بھی شامل ہو جائو گے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کے وارث قرار پائو گے۔صوفیاء کے نزدیک فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا سے دلی فریاد والتجا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔چنانچہ حل لغات میں بتایا جا چکاہے کہ نَقْعٌ کے معنے آواز کے بھی ہوتے ہیں۔