تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 150
میں شامل ہو چکی ہے یہ معنے فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا کے ہیں یعنی وہ جَمْعًا جو حقیقت میں جماعت کہلانے کی مستحق ہے اس میں وہ بھی شامل ہو جاتے ہیں اس صورت میں یہاں جَمْعًا کی تنوین عظیم الشان کے معنوں میں سمجھی جائے گی اور آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ پھر وہ جماعت جو ایک ہی جماعت کہلانے کی مستحق ہے یعنی اعلٰی عِلِّیِّیْن والی جماعت اس میں جا کر شامل ہو جاتے ہیں اور اپنے اس مقصد کو حاصل کر لیتے ہیں جس کے لئے انہیں دنیا میں پیدا کیا گیا تھا۔یہ نکتہ جو اوپر بیان کیا گیا ہے کہ سالک ایک طرف تو اپنی کوششوں سے کام لیتے ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ سے بھی دعائیں کرنی شروع کر دیتے ہیں کہ وہ شیطان کے مقابلہ میں ان کی مدد کرے اس کے متعلق ایک صوفی کا بھی لطیف واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔لکھا ہے کہ ان کے پاس کوئی شاگرد تصوّف کے مسائل سیکھنے اور ان کی صحبت سے مستفیض ہونے کے لئے آیا اور کچھ مدت تک اپنی روح کی صفائی کے لئے ان کی خدمت میں حاضر رہا۔کچھ عرصہ کے بعد علم تصوّف سیکھ کر اس نے چاہا کہ میں اب واپس جائوں اور اپنی قوم کی درستی کروں۔جب وہ چلنے لگا تو اس نے کہا حضور مجھے کوئی آخری نصیحت کردیں۔انہوں نے کہا تم مجھے یہ بات بتائو کہ کیا تمہارے ملک میں بھی شیطان ہوتا ہے؟ وہ حیران ہوا کہ مجھ سے یہ کیا سوال کیا گیا ہے کہنے لگا حضور کیا شیطان کسی خاص جگہ کی چیز ہے وہ تو ہر جگہ ہوتاہے۔انہوں نے فرمایا اچھا اگر کبھی شیطان نے تمہیں پکڑ لیا اور اللہ تعالیٰ کے قرب کے راستہ میں اس نے تمہیں بڑھنے نہ دیا تو تم کیا کروگے۔علم تو سیکھ گئے ہو لیکن تم جانتے ہو کہ شیطان بھی ہر وقت گھات میں لگا رہتا ہے اور وہ انسان کو گمراہ کرنے کے لئے اپنا پورا زور صرف کر دیا کرتا ہے۔جب تم نے عبادتیں شروع کیںاور کوشش کی کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے قرب کا کوئی مقام حاصل ہو جائے اور ادھر شیطان نے تمہاری ایڑی پکڑ لی اور وہ تمہیں ورغلانے لگا تو تم کیا کرو گے؟ اس نے کہا حضور میں شیطان کا پورا مقابلہ کروں گا۔انہوں نے کہا بہت اچھا۔مان لیا کہ تم نے شیطان کا مقابلہ کیا۔شیطان کو شکست ہو گئی اور تم جیت گئے۔لیکن جب پھر تم آگے بڑھنے لگے اور شیطان نے تمہیں پھر آپکڑا تو تم کیا کرو گے۔آخر شیطان مرتا تو نہیں کہ انسان یہ سمجھ لے کہ میں اسے مار کر امن میں آجائوں گا۔تم زیادہ سے زیادہ اس کے حملہ سے وقتی طور پر محفوظ ہو سکتے ہو لیکن اس خطرہ سے آزاد نہیں ہو سکتے کہ ممکن ہے وہ تم پر دوبارہ حملہ کر دے۔دوبارہ ہٹایا تو تیسری بار حملہ کر دے۔پس میں تسلیم کر لیتا ہوں کہ تم شیطان کا مقابلہ کروگے اور پھر اس سے اپنا پیچھا بھی چھڑا لو گے لیکن اگر اس نے ہزار مقابلہ کے بعد بھی تمہیں آپکڑا تو کیا کرو گے؟ کہنے لگا میں پھر مقابلہ کروں گا۔وہ بزرگ فرمانے لگے میں مان لیتا ہوں کہ اب کی د فعہ بھی تم کامیاب ہو جاتے ہو اور شیطان کو تم بھگا دیتے ہو لیکن تم پھر اپنے کام میں مشغول ہوتے ہو تو شیطان آجاتا ہے ایسی حالت میں تم اس کا کیا علاج کرو گے؟ وہ حیران