تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 144
کہ غلاموں کو مارتے ہیںاور پھر فخر کرتے ہیںحالانکہ اگر انسان میں ذرا بھی شرم وحیا کا مادہ ہو اور وہ کسی بچے کو مار رہا ہو یا غلام کو بے دردی سے پیٹ رہا ہو اور کوئی دوسرا شخص اسے کہے کہ تم کیا کر رہے ہو تو وہ ہزار بہانے بنانے لگ جاتا ہے کہ اس نے یہ خرابی کی تھی وہ خرابی کی تھی تا اس کی کمینگی پر پردہ پڑ جائے۔مگر فرماتا ہے یہ لوگ ایسے ہیں کہ بجائے نادم اور شرمندہ ہونے کے فخر کرتے ہیںاور کہتے ہیں آج ہم نے غلاموں کو خوب مارا۔آج ان کو پتھروں پر خوب گھسیٹا، آج ان کو گلی کوچوں میں خوب لتاڑا۔گویا یہ کمبخت انسان ایک تو گندہ اور ناپاک ہے اور پھر اپنی گندگی پر فخر کرتا ہے اور کہتا ہے میں نے یہ عیب کیا ، میں نے وہ عیب کیا۔اسی طرح وہ غریبوں کو نہیں دیتا۔جب پوچھا جائے تو کہتا ہے اَھْلَکْتُ مَالًا لُّبَدًا (البلد:۷) میں نے تو ڈھیروں ڈھیر روپیہ خرچ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَيَحْسَبُ اَنْ لَّمْ يَرَهٗۤ اَحَدٌ (البلد:۸) کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا یا لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیںکہ وہ جو کچھ کررہا ہے عزت نفس کے لئے کر رہاہے قوم کی بہبودی یا غرباء کی ترقی کا خیال اس کے ان اخراجات کا محرک نہیںبے شک وہ دن میں کئی کئی اونٹ ذبح کر دیتا ہے مگر اس لئے نہیں کہ بھوکوں کو کھانا ملے بلکہ اس لئے کہ لوگوں میں اس کی شہرت ہو۔غرض نہ صرف اس میں متعدد عیوب پائے جاتے ہیںبلکہ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ وہ ان عیوب پر فخر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ دیکھو مجھ میں یہ یہ باتیں پائی جاتیں ہیں۔یا مثلاً روپیہ تو پاس ہو ا لیکن اگر کوئی شخص فاقہ زدہ ہوا تو اس کو کھانا نہ کھلایا۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب کفار سے یہ کہاجاتا کہ غریبوں کی مدد کرو اور اپنے مال میں سے صدقہ وخیرات دو تو وہ جواب میں کہتے ہیںکہ ان کی مدد کرنا تو خدائی منشا کی مخالفت کرنا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ایسےلوگوں کے متعلق فرماتا ہے وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ۙ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ١ۖۗ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ( یٰسٓ:۴۸) جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ غریبوں کو کھانا کھلائو اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو تو وہ کہتے ہیںہم ان کو کیوں کھانا کھلائیںہم تو اللہ والا فعل کر رہے ہیںاللہ نے ان کو نہیں کھلایا ہم نے بھی ان کو نہیں کھلایا۔تم ایسے لوگوں کو کیوں کھلاتے ہو جن کو خود اللہ تعالیٰ نے بھوکا رکھنا پسند کیا ہے۔اس آیت میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے کہ وہ ایک طرف تو غریبوں کو کھانانہیں کھلاتے تھے اور پھر اپنی اس کمینگی اور بے حیائی پر شرمندہ ہونے کی بجائے فخر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو اللہ والا فعل کر رہے ہیں تم ہمیں مورد الزام کس طرح قرار دے سکتے ہو۔