تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 142

وہ ان کی مدد کر سکتا تھا مگر وہ یہ بھی نہیں کرتا۔لغت کی کتاب تعریفات میں لکھا ہے ھُوَ الَّذِیْ یَعُدُّ الْمَصَائِبَ وَیَنْسَی الْمَوَاھِبَ (اقرب) کَنُوْد وہ ہوتا ہے جو مصیبتیں گنتا رہتا ہے کہ فلاں مصیبت مجھے پہنچی۔فلاں تکلیف مجھے پیش آئی وَیَنْسَی الْمَوَاھِبَ اور انعامات کو بھول جاتا ہے۔اسے یہ تو یاد رہتاہے کہ فلاں وقت میں اپنے دوست کے پاس گیا اور اس سے فلاں چیز مانگی جس کے دینے سے اس نے انکار کر دیا مگر وہ دس ہزار چیزیںجو اس نے مختلف اوقات میں دی ہوتی ہیں اس کی نظر سے اوجھل ہو جاتی ہیں اور وہ کبھی ان کا ذکر تک نہیں کرتا۔تفسیر۔وَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا میں جَمْعًا سے مراد کنود انسان یہاں اَلْاِنْسَان سے ہرانسان مراد نہیں بلکہ یہ اشارہ ہے وَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا والے انسانوں کی طرف۔یعنی جس جمع پر انہوں نے حملہ کرنا تھا وہ جمع جن انسانوں پر مشتمل ہے وہ اس جگہ مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ وہ انسان جن پر یہ مسلمان حملہ کریں گے ان کا اپنے رب کے ساتھ اس اس طرح کا معاملہ ہے ایک تو وہ کافر ہیںخدا تعالیٰ کی باتوں کا انکار کررہے ہیں اور دوسرے وہ سخت ناشکرے ہیں۔خدا تعالیٰ کے احسانات کی وہ ذرا بھی قدر نہیں کرتے۔خدا تعالیٰ نے ان پر کتنا بڑا احسان کیا تھا کہ ایک ریتلے علاقہ میں وہ چاروں طرف سے رزق جمع کر کے لاتا اور ان کو کھلاتا پلاتا ہے مگر ان کی حالت یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کے ان انعامات کے شکر گذار ہوتے اور جب اس کی طرف سے کوئی پیغام آتا تو وہ دوڑتے ہوئے اس پر عمل کرتے الٹا خدا تعالیٰ کی باتوں کاانکار کر رہے ہیں غریبوں کو کھانا تک نہیں کھلاتے اور غلاموں پر ظلم وستم کے پہاڑ گرارہے ہیں۔چنانچہ پہلی سورتوں میں مکہ والوں کی اس حالت کا ذکر آچکا ہے کہ وہ غریبوں کو کھانا نہیں کھلاتے۔صدقہ وخیرات کی طرف توجہ نہیں کرتے۔یتامیٰ ومساکین کی خبر گیری نہیں کرتے بلکہ جو کچھ آئے اسے عیاشی میں لٹا دیتے ہیں۔اب کَنُوْد کہہ کر ان کی اس حالت کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ انہیں دعویٰ تو یہ ہے کہ ہم بڑے بہادر ہیں مگر حالت یہ ہے کہ غلاموں کو ہر وقت مارتے پیٹتے رہتے ہیں گویادناء ت اور کمینگی کے ساتھ بزدلی بھی ان میں کمال درجہ کی پائی جاتی ہے کہ کسی طاقتور کا مقابلہ کرنے کی بجائے کمزوروںپر اپنا غصہ نکالتے ہیں۔بلالؓ قابوآئے تو ان کو مارنے پیٹنے لگ گئے لیکن جب ابوذر غفاریؓ کو مارا تو کسی نے ان سے کہہ دیا کہ جانتے ہو یہ شخص بنو غفار میں سے ہے جو تمہارے تجارتی راستہ پر آباد ہیں اگر ان کو اس بات کا علم ہوا تو وہ تمہارا راستہ روک دیں گے یہ سننا تھا کہ ان کے اوسان خطا ہو گئے اور انہوں نے ابو ذر کو چھوڑ دیا تا ایسا نہ ہو کہ ان کی روٹی بند ہو جائے (بخاری کتاب المناقب باب اسلام ابی ذرٍّ) لیکن بلالؓ یا کوئی اور ایسا غلام سامنے آتا جس کی پشت پر کوئی قوم نہ تھی تو