تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 141

عَبْدَہٗ اور بہادری یہ جتاتا ہے کہ غلام کو مارنے لگ جاتا ہے۔گویا اس کے معنے کمینہ،بخیل اور بزدل انسان کے ہیں۔کمینہ کا مفہوم اکیلے کھانا کھانے میں آجاتا ہے کیونکہ کھانا ایسی چیز ہے کہ غریب سے غریب آدمی بھی کھا رہا ہو تو دوسرے کو دیکھ کر کہہ دیتا ہے کہ آیئے کھانا کھا لیں۔مگر اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اکیلا چھپ کر کھاتا ہے اور کسی دوسرے کو اپنے کھانے میں شریک کرنا پسند نہیں کرتا۔پھر ساتھ ہی بخیل بھی ہے کہ مال اس کے پاس موجود ہوتا ہے مگر کسی کو دینا پسند نہیں کرتا اور پھر طُرّہ یہ کہ وہ بزدل بھی ہے اپنی ساری بہادری غلاموں یا عورتوں پر جتاتا ہے اور کہتا ہے مار کر تمہارے دانت توڑ دوں گا لیکن اگر کوئی طاقت ور سامنے آجائے تو سر جھکا لیتا ہے۔ان معنوں میں سے آخری معنے حدیث میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔چنانچہ ابن ابی حاتم اور ابن جریر دونوں کی رو ایت ہے ابی امامہ فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اَلْکَنُوْدُ الَّذِیْ یَّاْکُلُ وَحْدَہٗ وَیَضْـرِبُ عَبْدَہٗ وَیَـمْنَعُ رِفْدَہٗ (تفسیر ابن کثیر سورۃ العادیات زیر آیت اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ) کَنُوْد وہ ہے جو اکیلا کھانا کھائے،اپنے غلام کو مارے پیٹے اور اپنی عطا کو روک لے۔میں نے اس سے استنباط کرتے ہوئے کہا ہے کہ کَنُوْدُ وہ ہے جو کمینہ ہو کیونکہ کمینہ انسان ہی کھانا کھانے لگے تو کسی اور کو اس میں شریک کرنا پسند نہیں کرتا۔اسی طرح کَنُوْد وہ ہے جو بزدل ہو اپنے غلاموں یا عورتوںکو مارتا پیٹتا رہتا ہو بہادر کے سامنے اپنی آنکھیں اونچی نہ کر سکتا ہو اور پھر کَنُوْد وہ ہے جو بخیل ہو اور اپنی عطا کو روک لے۔لیکن میں سمجھتا ہوں اَلْکَنُوْدُ الَّذِیْ یَّاْکُلُ وَحْدَہٗ میں صرف اس کی کمینگی کی طرف ہی اشارہ نہیں بلکہ اس کے ایک معنے متکبر کے بھی ہیں کیونکہ متکبر آدمی بھی دوسرے کو اپنے ساتھ کھلانا پسند نہیں کرتا۔کہتا ہے کہ میں بڑا آدمی ہوں۔اسی طرح اکیلا کھانا کھانے کے ایک اور معنے بھی ہو سکتے ہیںاور وہ یہ کہ وہ صرف اپنے طبقہ کے لوگوں کو دعوتوںوغیرہ میں شریک کرتا ہے نچلے درجہ کے لوگوں کو کھانے کے لئے نہیں بلاتا۔اس صورت میں مَنْ یَّاْکُلُ وَحْدَہٗ کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ وہ اکیلا کھاتا ہے کسی دوسرے کو شامل نہیں کرتا بلکہ اس کے معنے یہ ہو جائیں گے کہ وہ صرف اپنے جیسے لوگوں کو جو اس کے طبقہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں کھانے میں بلا لیتا ہے لیکن اور لوگوں کی پروا نہیں کرتا۔دعوت کرتا ہے تو بڑے بڑے رئیسوں تک اس کی دعوت محدود ہوتی ہے عوام الناس کو جن میں اکثریت غرباء اور مساکین کی ہوتی ہے پوچھتا تک نہیں۔یہ معنے ایسے ہیں جو کفار پر نہایت عمدگی کے ساتھ چسپاں ہوتے ہیںکیونکہ عرب میں بڑی کثرت سے رواج تھا کہ دعوتوں میں امراء وغیرہ کو تو بلا لیا جاتا مگر غرباء کو دعوتوں میں نہ بلایا جاتا تھا ہاں کھانا ان میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔اگلی آیت بھی ان معنوں کی تائید کرتی ہے کیونکہ اس میں مضمون یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر اسے غرباء کو اپنے ساتھ کھانا کھلانا مشکل نظر آتا تھا تو روپیہ پیسہ سے تو