تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 140

اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ۰۰۷ انسان یقیناً اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے۔حلّ لُغات۔اَلْکَنُوْدُ۔اَلْکَنُوْدُ: اَلْکَفُوْرُ یَسْتَوِیْ فِیْہِ الْمُذَکَّرُ وَالْمُؤَنَّثُ۔کَنُوْد کے معنے کَفُوْر کے ہیں یعنی ایسا انسان جو نا شکرا ہو اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کا انکار کرنے والا ہو۔یہ لفظ مرد کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور عورت کے لئے بھی۔یعنی عورت کا ذکر ہو تو کہیں گے اَلْاِمْرَأَ ۃُ الْکَنُوْدُ۔اورمرد کا ذکر ہو تو کہیں گے اَلرَّجُلُ الْکَنُوْدُ اسی طرح کَنُوْد کے ایک معنے اَلْکَافِرُ کے بھی ہیں کَنُوْد سے مراد تو ایسا شخص تھا جو اللہ تعالیٰ کے انعامات کا انکار کرنے والا تھا اور کافر سے مراد ایساشخص ہے جس پر دینی اصطلاح میں کفر کا اطلاق ہوتا ہو۔کَنُوْد کے ایک معنے اَللَّوَّامُ لِرَ بِّہٖ کے بھی ہیںیعنی اپنے رب پر الزام لگانے والا اور اسے ملامت کرنے والا۔(اقرب) بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بات بات پر اللہ تعالیٰ کی ہتک کرتے ہیںکہتے ہیں خدا نے ہمیں کیا دیاہے سب کچھ اس نے امیروں کو دے دیا ہے۔ہم اس کا کیوں شکر ادا کریں۔ہم کیوں نمازیں پڑھیں۔ہمارے سر پر اس نے کون سا احسان کیا ہے غریب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں امیر نمازیں پڑھتے پھریںاور امیر ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہماری صحتیں کمزور ہیںطاقت اور توانائی تو اس نے غریبوں کو دے دی ہے ہم اس کا کیوں شکر ادا کریں۔غرض امیر ہوتا ہے تب بھی اور غریب ہوتا ہے تب بھی وہ ہر وقت خدا تعالیٰ پر عیب لگاتا رہتا ہے اور کہتا ہے میرے ساتھ خدا تعالیٰ نے کون سا سلوک کیا ہے کہ میں اس کی عبادت کروںاسی طرح کَنُوْد کے ایک معنے اَلْبَخِیْلُ کے بھی ہیں یعنی ایسا شخص جو اپنے مال کو خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتا ہے اور کَنُوْد کے معنے عاصی اور گناہ گا ر کے بھی ہیں اور کَنُوْد کے ایک معنے اَلْاَرْضُ لَا تَنْبُتُ شَیْئًا کے بھی ہیں یعنی ایسی زمین جس میں سے کچھ پیدا نہیں ہوتا یُقَالُ ھٰذِہٖ اَرْضٌ کَنُوْدٌ۔چنانچہ کہا جاتا ہے کہ یہ زمین کَنُوْد ہے اور اس کے معنے یہ ہوتے ہیںکہ اس میں سے کچھ اگتا نہیں۔پھر کَنُوْد اسے بھی کہتے ہیںجو اکیلا کھائے اور اپنے مال کو خرچ نہ کرے اور اپنے غلام کو مارتا رہے چنانچہ لغت میں لکھا ہے اَلْکَنُوْدُ مَنْ یَّاْکُلُ وَحْدَہٗ وَ یَـمْنَعُ رِفْدَہٗ وَیَضْـرِبُ عَبْدَہٗ (اقرب) گویا کمینہ کے معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔کھانا کھانے بیٹھے تو اکیلا کھائے گا کسی اور کو اپنے کھانے میں شریک نہیں کرے گا خدا تعالیٰ نے روپیہ دیا ہو تو اسے خرچ نہیں کرے گا۔رِفْدٌ کے معنے دراصل عطا کے ہوتے ہیں۔پس یَـمْنَعُ رِفْدَہٗ کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے پاس روپیہ ہوتا ہے مال و دولت ہوتی ہے مگر وہ کسی کو دیتا نہیں وَیَضْـرِبُ