تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 134
ملک معظم ہندوستان میں آئے اس وقت جہاں اور کئی قسم کی کھیلیں ان کو دکھائی گئیں وہاں نیزہ بازی کے فن کا بھی ان کے سامنے مظاہرہ کیا گیا اس وقت بعض سوار تو اتنی تیزی سے اپنا گھوڑا دوڑاتے ہوئے آتے کہ ذرا بھی ان کا گھوڑا نہ رکتا اور میخ کو اکھاڑ کر لے جاتے اور بعض میخ کے قریب پہنچ کر رہ جاتے۔پھر بعض لوگ تو اپنے فن میں ایسے ماہر تھے کہ وہ بجائے بیٹھنے کے گھوڑے کی پیٹھ پر لیٹ کر اسے تیزی کے ساتھ دوڑاتے ہوئے آتے اور میخ اکھاڑ کر لے جاتے حالانکہ اس وقت معمولی سوار کے لئے بیٹھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔غرض گھوڑے کو تیز دوڑانا اپنی ذات میں ایک فن ہوتا ہے اور پھر اسے تیز دوڑاتے ہوئے اپنے مفوضہ فرض کو کمال خوبی کے ساتھ سرانجام دینا یہ دوسرا فن ہوتا ہے۔لڑائی میں صرف گھوڑے کو تیز دوڑانے کا فن کام نہیں آتا بلکہ اس دوسرے فن میں بھی مہارت کا پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے کہ گھوڑے کو تیز دوڑاتے ہوئے انسان دشمن پر بھی عمدگی سے حملہ کرسکے۔فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا میں ان دونوں باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یعنی اَثَرْنَ مُلَابِسًا بِالْاِغَارَۃِ۔مسلمانوں کی یہ حالت کہ ادھر دشمن پر حملہ کرنے کے لئے وہ بالکل تیار ہوتے ہیں اور ادھر وہ اپنے گھوڑوں کو انتہائی تیز دوڑا رہے ہوتے ہیں۔گھوڑوں کا تیز دوڑناان کو فعل اغارت سے نہیں روکتا۔یہ بات ان کے کمال درجہ کے شوق اور مہارت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ مسلمان رات اور دن جہاد کے لئے تیاریاں کرتے رہتے تھے جس کے نتیجہ میں انہیں جنگی فنون میں کامل مہارت حاصل ہو چکی تھی۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں حبشیوں کو نیزوں کے کرتب دکھانے کی اجازت دی اور نہ صرف آپ نے ان کو بڑے شوق سے دیکھا بلکہ اپنے اہل بیت کو بھی دکھایا۔(بخاری کتاب الصلٰوۃ باب اصحاب الحراب فی المسجد ) اسی طرح حدیثوں سے ثابت ہے کہ صحابہؓ ہمیشہ تیراندازی کی مشقیں کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ صحابہ ؓ کی دو پارٹیوں میں تیر اندازی کا مقابلہ ہو رہا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ایک پارٹی میں شامل ہوگئے۔یہ دیکھ کر دوسری پارٹی نے اپنے تیر رکھ دیئے اور کہا یارسول اللہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم اس پارٹی کا مقابلہ کریں جس میں آپ ہوں۔(بخاری کتاب الجھاد والسیر باب التحریض علی الرمٰی) فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا میں مسلمانوں کے جنگی فنون میں ماہر ہونے کی طرف اشارہ غرض صحابہؓ اپنے آپ کو ہمیشہ جنگ کے لئے تیار رکھتے اور جنگی فنون میں مہارت پیدا کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے اللہ تعالیٰ ان کی اسی مہارت کا ذکر فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا میں کرتا ہے اور فرماتا ہے آج مسلمان تمہیں کمزور اور بےکس نظر آتے ہیں مگر ہم بطور پیشگوئی یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ کمزور نظر آنے والے مسلمان ایک دن نہایت اعلیٰ درجہ کے ماہرفن ہوجائیں گے۔اغارت ان کو تیز دوڑنے سے روک نہیں سکے گی اور تیز دوڑنا ان کو فعل اغارت سے نہیں