تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 126

تصدیق ہو گئی حدیث سے بھی اس کی تصدیق ہو گئی اور لغت کی تائید بھی ان معنوں کو حاصل ہو گئی۔کیونکہ لغت بتاتی ہے کہ ضَبْحٌ گھوڑے کی ایک دوڑ کا بھی نام ہے اور ضَبْحٌ اس خاص قسم کی آواز کو بھی کہا جاتا ہے جو دوڑتے وقت اس کے سینہ میں سے نکلتی ہے اور وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا کے معنے یہ ہیںکہ اےـ مسلمانو! آئندہ زمانہ میں تمہیں جنگیں پیش آنے والی ہیںتمہاری ملکی چیز اونٹ ہے مگر ہماری نصیحت یہ ہے کہ تمہیں اپنے پاس زیادہ سے زیادہ گھوڑے رکھنے چاہئیں کیونکہ وہ جنگ میں اونٹوںسے زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔اگر تم گھوڑوں سے کام لو گے تو وہ تمہاری فتح کا موجب ہو جائیں گے۔چنانچہ صحابہ ؓ نے ایسا ہی کیا اور روز بروز ان کے گھوڑے بڑھتے چلے گئے۔فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًاۙ۰۰۳ پھر (مجھے قسم ہے) چوٹ مار کر چنگاری نکالنے والوں کی حلّ لُغات۔مُوْرِیَاتِ مُوْرِیَاتِ: اَوْرٰی سے اسم فاعل کا جمع مونث کا صیغہ ہے اور اَوْرَی الزَّنْدَ کے معنے ہوتے ہیںاَخْرَجَ نَارَہٗ (اقرب)۔اس نے چقماق میں سے آگ نکالی یعنی چقماق کو ٹکرایا جس کے نتیجہ میں آگ پیدا ہوئی اور قَدَحَ بِالزَّنْدِ کے معنے ہیں رَامَ الْاِیْرَاءَ بِہٖ اس نے چقماق میں سے آگ نکالنے کا ارادہ کیا (اقرب) قَدْحًا پس فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا کے معنے یہ ہوئے کہ وہ قَدْح کر کے یعنی ارادہ کے ساتھ آگ نکالتے ہیں یا قَدْح کے معنے چونکہ بعض لوگ ٹکرانے کے لیتے ہیںاس لحاظ سے معنے یہ ہوں گے کہ وہ ٹکرا کر آگ نکالتے ہیں۔تفسیر۔آگ جلانے سے بعض نے گھوڑوں کے سموں سے پیدا ہو نے والیآگ مراد لی ہے (ابن جریر) اور بعض نے جنگ سے واپسی پر کھانا پکانے کی آگ یا مزدلفہ میںآگ جلانا مراد لیا ہے۔حضرت ابن عباسؓنے جنگ سے واپسی پر کھانا پکانے کے لئے آگ جلانا ہی اس کے معنے کئے ہیں(طبری سورۃ العادیات زیر آیت فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا )۔پرانے زمانے میں چونکہ دیا سلائیاں نہیں ہوتی تھیں اس لئے گھروں میںعام طور یہ دستور ہوا کرتا تھا کہ رات کو کھانا پکانے کے بعد کسی قدر آگ راکھ میں دفن کر دی جاتی تھی بلکہ آج کل بھی دیہات میں یہی طریق رائج ہے جب شام کا کھاناتیار ہو جاتاہے تو کوئی انگارہ یا سلگتی ہوئی لکڑی کا ٹکڑا راکھ کے نیچے دفن کر دیتے ہیںصبح کے وقت انگارہ نکال کر تھوڑی سی مونج کی رسی اس پر رکھ دیتے ہیںیا لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اکٹھے کر کے اس کے ارد گرد رکھ دیتے ہیں تھوڑی دیر کے بعد مونج یا لکڑی کے ٹکڑے جل اٹھتے ہیں اور آگ روشن ہو جاتی ہے وہ لوگ جن کی آگ بجھ