تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 127

جاتی ہے اپنے ہمسایہ سے آگ لے لیتے ہیںمگر جنگ میں ایسا نہیں ہو سکتا اس موقعہ پر پرانے زمانہ میں آگ روشن کرنے کے لئے چقماق سے کام لیا جاتا۔چقماق کو جب لوہے سے زور سے ٹکرائیںتو اس میں سے آگ نکلتی ہے اس وقت ذرا سا کپڑایا سوکھا ہو ا پتّہ یا مونج کا کوئی ٹکڑا ساتھ رکھ دیا جائے تو وہ فوراً جل اٹھتا ہے۔آج کل بھی یورپین قوموں میںچقماق کا رواج پایا جاتا ہے مگر ہمارے ملک میں اس کا رواج مٹ گیا ہے۔جب ہم چھوٹے تھے تو چقماق سے تماشہ کے طور پر آگ نکالا کرتے تھے اور گنوار لوگ جن کو حقیقت کا علم نہیں ہوتا تھا وہ سمجھتے تھے کہ بڑا معجزہ ہو گیا ہے مگر اب ہندوستا ن میں چقماق کا رواج نہیں رہا۔جرمن قوم میں اس کا زیادہ رو ا ج ہے کسی قدر انگریزوں میں بھی اس کا رواج پایا جاتا ہے چنانچہ جنگ کے دنوں میںسگرٹ اور سگار جلانے کے لئے فوجیوں میں چقماق بھی دیئے جاتے تھے۔چقماق کو ایک گھومنے والے لوہے کے چکر کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے اور ساتھ ایک سپرنگ لگا ہوا ہوتا ہے جب اس سپرنگ کو دبایا جائے تو لوہے کا چکر تیزی کے ساتھ گھومنے لگتا ہے اور ساتھ کے چقماق کے ساتھ ٹکراتا ہے جس سے شعلہ پیدا ہوتا ہے پاس ہی بتی ہوتی ہے جس کے نیچے کچھ تیل ہوتا ہے وہ فوراً اس شعلہ سے جل اٹھتی ہے اور سگرٹ یا سگار جلا لیا جاتا ہے اور پھر فوراً بتی کو بجھا دیا جاتا ہے۔جرمنوں میں اس کا رواج بہت زیادہ تھا مگر جرمن تجارت کا یہ آلہ ایک جزو تھا۔تھوڑے دن ہوئے یہاں کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ فوجیوںکے لئے سگار لائٹر تیار کئے گئے ہیں یہ سگار لائٹر زیادہ تر برما میں کام کرنے والے فوجیوں کے لئے تیار کئے گئے تھے کیونکہ وہاں آگ آسانی سے نہیں جل سکتی۔فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا کے معنے ابن عباسؓکے نزدیک پرانے زمانہ میں بوجہ دیا سلائی نہ ہونے کے فوجوں میں چقماق سے ہی زیادہ تر کام لیا جاتا تھا اس لئے حضرت ابن عباس ؓکی یہ رائے ہے کہ فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا کے معنے یہ ہیںکہ جب وہ سوار جنگوں سے واپس آتے ہیںتو بیٹھ کر آگ جلاتے اور اپنے لئے کھانا تیار کرتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا کے فقرہ کے معنے حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق کھانا پکانے کے لئے آگ جلانے کے بھی ہوسکتے ہیں مگر یہاںوہ بات مراد نہیں جو انہوں نے سمجھی ہے یعنی وہ حملہ سے لوٹ کر ایسا کرتے ہیں کیونکہ اس کی تردید اگلی آیت سے ہی ہو جاتی ہے۔اگلی آیت میں حملہ کا ذکر کیا گیا ہے اور اس سے پہلے فاء ہے جو اکثر وبیشتر ترتیب کے لئے آتی ہے۔یہ ترتیب خود بتا رہی ہے کہ حملہ بعد میں ہے نہ کہ پہلے۔یعنی پہلے فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا ہے اور پھر فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا۔پس اگلی آیت میںمذکور بات اس آیت میں بتائی ہوئی بات کے بعد ہونی چاہیے۔میرے نزدیک فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا کے معنے اگر کھانا پکانے کے لئے آگ جلانے کے ہی کرنے ہوںتو چونکہ