تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 125
آخر میں نے بھی خچر چھوڑی اور گدھے پر سوار ہو کر وہاںپہنچا۔پس مکہ میں گھوڑے بہت کم ہوتے ہیںاور اس زمانہ میںتو اور بھی کم تھے۔جب یہ سورۃ نازل ہوئی زیادہ تر اونٹوں کا رواج تھا مگر اللہ تعالیٰ نے وَالْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا کی آیت نازل فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ یہ مکہ کے اونٹ سوار ایک دن گھوڑے سوار بننے والے ہیں۔چنانچہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوںبعد میں مسلمانوں کے پاس گھوڑے بڑھتے چلے گئے اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی کیونکہ جنگ میں جتنا کام گھوڑا دے سکتا ہے اتنا کام اونٹ نہیں دے سکتا۔اس کے علاوہ مسلمانوں میں گھوڑوں کا رواج اس وجہ سے بھی ترقی پا گیا کہ قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لئے گھوڑے رکھنا اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے حصول کا ایک ذریعہ قرار دے دیا تھا۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو واضح طور پر یہ حکم دے دیا تھا کہ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ (الانفال:۶۱) تم اپنے دشمنوں کے مقابلہ میںجو کچھ بھی تیاری کر سکتے ہو کرو اپنی قوت کو بڑھا کر اور اپنے گھوڑوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر کے تاکہ اس ذریعہ سے دشمن پر تمہارا رعب قائم ہو جائے اور وہ اپنی ریشہ دوانیوں سے باز آجائے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار مسلمانوں کو ترغیب دلائی کہ اگر وہ جہاد کے لئے گھوڑے رکھیں گے تو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا اجر ملے گا۔مثلاً آپ نے فرمایا اَلْـخَیْل مَعْقُوْدٌ فِیْ نَوَاصِیْـہَا الْـخَیْـرُ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ(بخاری کتاب الـجھاد والسیر باب الخیل معقود فی نواصیھا الـخیر الی یوم القیامۃ) کہ گھوڑوں کی پیشانی میںقیامت تک خیر بندھی ہوئی ہے اسی طرح آپؐنے فرمایا مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اِیْـمَانًا بِاللہِ وَتَصْدِیْقًا بِوَعْدِہٖ فَاِنَّ شَبْعَہٗ وَ رَیَّہٗ وَرَوْثَہٗ وَبَوْلَہٗ فِیْ مِیْـزَانِہٖ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ (بخاری کتاب الجھاد والسیر باب من احتبس فرسا فی سبیل اللہ ) کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ اس کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے اپنا گھوڑا وقف کر دیتا ہے اس گھوڑے کا کھانا، اس کا پینا، اس کی لید اور اس کا پیشاب سب قیامت کے دن انسان کی میزان میں بطور اعمال نیک کے تولے جائیں گے۔گھوڑوں کے متعلق تو اس قسم کی متعدد احا دیث آتی ہیںمگر اونٹ کے متعلق کسی حدیث میں نہیں آتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے لئے اس کا رکھنا بھی اسی طرح موجب حسنات قرار دیا ہو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ منشاء الٰہی یہی تھا کہ مسلمان گھوڑے زیادہ رکھیںاور اغراض جہاد کے لئے اونٹوں کی طرف کم توجہ کریں۔یہ ساری باتیں بتاتی ہیںکہ اس جگہ عَادِیَات سے گھوڑے ہی مراد ہیں چنانچہ قرآن کریم سے بھی اس کی