تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 101

کررہی ہے۔پس یہ کیسی آیت ہوئی کہ دو دھاری تلوار بن کر اس نے جنت کو بھی اڑا دیا اور دوزخ کو بھی اڑا دیا۔جنت کو بھی بےکار قرار دے دیا اور دوزخ کو بھی بےکار قرار دے دیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سچ ہے کہ کوئی چیز ضائع نہیں جاتی۔لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح دنیا میں حساب ہوتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے قانون میں بھی حساب مقدر ہے۔فرض کرو زید اور بکر دو آدمی ہیں اور زید کے بکر کے پاس ایک ہزار روپے ہیں لیکن زید کے ذمہ بکر کے دو ہزار روپے ہیں۔اب یہ لازمی بات ہے کہ جب حساب ہوگا تو بکر اس سے صرف ایک ہزار روپیہ مزید لے کر اپنے گھر چلا جائے گا۔ایسی صورت میں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ بکر کاہزار روپیہ ضائع گیا۔بکر کا اس سے دو ہزار کی جگہ ہزار لے جانا ہی بتاتا ہے کہ اس کا ہزار ضائع نہیں گیا بلکہ کام آگیا کیونکہ بکر نے تو دو ہزار روپے لینے تھے مگر چونکہ زید کے ایک ہزار روپے اس کے پاس پہلے موجود تھے اس لئے دو ہزار میں سے ایک ہزار روپے وضع ہو گئے اور زید کو دوہزار کی بجائے صرف ایک ہزار روپیہ زائد دینا پڑا۔یہی حال نیکیوں اور بدیوں کا ہے۔اﷲ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِيْنَ(ھود :۱۱۵) تم نمازیں قائم کرو صبح کو بھی اور شام کو بھی اسی طرح رات کے دونوں کناروں میں یعنی ہر تغیر جو واقعہ ہو تا ہے اس میں تمہیں اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرنی چاہیے۔دن آئے تو تم عبادت کرو دن جانے لگے تو تم عبادت کرو۔رات آئے تو تم عبادت کرو رات جانے لگے تو تم عبادت کرو۔اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ دنیا میں ہرتبدیلی کوئی نہ کوئی اثر چھوڑ جاتی ہے اور وہ تغیر اور تبدیلی یا تو خیر کا موجب ہوتی ہے یا شر کا موجب ہوتی ہے۔اگر تم اﷲ تعالیٰ کی عبادت بجا لائو گے اور ہر تغیر کے وقت اﷲتعالیٰ کی طرف جھکو گے تو اگر وہ تغیر تمہارے لئے کسی شر کا موجب ہو گا تو عبادت کرنے سے وہ شر دور ہو جائے گا اور اگر کسی شر کا موجب نہیں ہو گا تو تمہارے اعمال خیر میں اضافہ ہوتا رہے گا دونوں طرح تمہارا فائدہ ہی فائدہ ہے۔جب نیا دن آئے گا تو یا تمہارے لئے خیر لائے گا یا شر لائے گا اور جب دن جائے گا تو یا تمہارے لئے خیر چھوڑ جائے گا یا شر چھوڑ جائے گا۔اسی طرح رات آئے گی تو یا تمہارے لئے خیر لائے گی یا شر لائے گی اور جب رات جائے گی تو یا تمہارے لئے خیر چھوڑ جائے گی یا شر چھوڑ جائے گی۔اگر تم ہر تغیر کے وقت اﷲ تعالیٰ کی عبادت بجالائو گے تو تمہاری نمازیں اور تمہاری عبادتیں اور تمہاری دعائیں شر کو اڑا دیں گی۔کیونکہ بہر حال رات اپنے آنے اور جانے کے وقت اسی طرح دن اپنے آنے اور جانے کے وقت یا خیر لائے گا یا شر لائے گا۔یا خیر چھوڑ جائے گا یا شر چھوڑ جائے گا۔اگر دن آتے اور جاتے تمہارے لئے شر چھوڑ گیا ہے اور تم نے نماز پڑھ لی ہے تو دن کا شر دورہو جائے گا اوراگر رات آتے اور جاتے تمہارے لئے شر چھوڑ گئی