تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 100

وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ۔ایک خدا ہے جو اس دنیا کو پید ا کرنے والا ہے اور جس کی نظر سے انسان کا باریک سے باریک عمل خیر بھی پوشیدہ نہیں ہوتا اس لئے اے کمزور اور بیمار انسان ! اے لولے لنگڑے انسان ! اے غریب اور نادار انسان ! تو مت گھبرا۔آسمان پر ایک خدا تیرے حالات کو دیکھ رہا ہے اور اس کی نگاہ سے تیرا کوئی عمل پوشیدہ نہیں۔اے کمزور اور نا طاقت انسان ! جو کسی کی مدد نہیں کر سکتا۔اے لولے لنگڑے انسان! جو کھڑے ہوکر نماز بھی نہیں پڑھ سکتا۔اے بیمار اور نحیف انسان جو دینی خدمات کی ادائیگی کے لئے اپنے اندر چلنے پھرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا تیرا دل گھبرا تا ہو گا کہ اور لوگ تو نیکیوں میں حصہ لے گئے اور میںمحروم رہ گیا۔تو پریشان مت ہو تیرا دل اپنی اس بے کسی کو دیکھ کر گھبرائے نہیں تیری وہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی جو ان حالات میں تجھ سے ظاہر ہوتی ہے،تیرا چھوٹے سے چھوٹا وہ نیک خیال بھی جو تیرے دل کے اندرونی گوشوں میں پیدا ہوتا ہے اﷲتعالیٰ کے حضور وہی قدر و قیمت رکھتا ہے جو دوسروں کے بڑے بڑے اعمال خیر رکھتے ہیں۔بے شک تو نے جب دین کی خدمت کے لئے ایک پیسا یا دھیلا نکال کر دیا تو لوگ تجھ پر حقارت کی ہنسی ہنسے۔تو نے ایک روٹی کا ٹکڑا پیش کیا تو وہ تجھ پر مسکرائے اور انہوں نے کہا اس روٹی کے ٹکڑہ سے کیا بن جائے گا مگر تو مت گھبرا۔مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔تیرے عمل خواہ کتنے حقیرہوں،تیری کوششیں خواہ کتنی ادنیٰ ہوں، تیری بے کسی خواہ کس قدر ظاہر ہو، بے شک دنیا نے تیرے اعمال کی قدر نہیں کی،اس کی نگاہ تیرے خیر کو دیکھنے سے قاصر رہی ہے مگر خدا تیرے عمل خیر کو دیکھ رہا ہے اور وہ ایک دن تجھ کو بھی اپنے ان کاموں کے نتائج دکھا دے گا۔دوسری طرف یہ آیت عمل شر کرنے والوں کو تنبیہ کرتی ہے اور ان سے کہتی ہے اے شریر انسان ! تو جوچوری چھپے شرار تیں کرتا ہے تجھے چوروں میں بھی عظمت حاصل نہیں تجھے ڈاکوئوں میں بھی عظمت حاصل نہیں اور تجھے شر کرتے ہوئے دنیا میں کسی نے نہیں دیکھا مگر ہم تجھے دیکھ رہے ہیں اور ہم تجھ کو ان شرارتوں کا ایک دن پوری طرح مزہ چکھا دیں گے۔غرض جزائے خیر و شر کے متعلق یہ ایک ایسا عظیم الشان اصل ہے کہ اگر اس کو پوری طرح سمجھ لیا جائے تو صحیح نیکی پیدا ہوتی اور بدی سے بچنے کا صحیح جذبہ انسانی قلب میں پیدا ہو جاتا ہے۔بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ پھر تواس کا یہ نتیجہ نکلا کہ نہ جنت ہے نہ دوزخ۔جب ہر بدی کا بدلہ ضرور دیکھنا ہو گا تو پھر بخشش اور توبہ کے کیا معنے ہوئے۔اور جب ہر خیر کا بدلہ ضرور دیکھنا ہوگا تو پھر دوزخ میں لوگ کیوں ڈالے جائیں گے۔گویا ایک آیت وہ ہے جو جنت کی نفی کرتی ہے اور دوسری آیت وہ ہے جو دوزخ کی نفی کرتی ہے۔مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔دوزخ کی نفی کر رہی ہے اور مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ جنت کی نفی