تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 102
ہے اور تم نے نماز پڑھ لی ہے تو رات کا شر دور ہو جائے گا۔اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ۔اﷲ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ نیکی بدی کا ازالہ کر دیا کرتی ہے۔اگر بدی ہو تو نیکی سے وہ فوراً کٹ جاتی ہے اور اگر خیر ہی خیر ہو تو پھر عبادت تمہاری نیکیوں کو اور بھی بڑھا دے گی۔یہ ضرورت پیش نہیں آئے گی کہ ان نیکیوں کو شر کے ازالہ پر خرچ کیا جائے۔بہر حال اﷲ تعالیٰ یہ ہدایت دیتا ہے کہ جب تم سے کوئی شر ظاہر ہو یا کسی شر کا امکان تمہارے لئے پیدا ہو تو تم فوراً نیکی کر لیا کرو تاکہ بدی کٹ جائے اور تمہیں اس کا خمیازہ نہ بھگتنا پڑے۔ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِيْنَ یہ ایک گُر ہے جو ہم نے تمہیں بتا دیا ہے اگر تم اپنے پہلو کو ہمیشہ مضبوط رکھنا چاہتے ہو تو ہماری اس نصیحت کو یاد رکھو کہ دن اور رات کے آتے جاتے وقت ضرور عبادت کر لیا کرو۔جب دن آئے گا تو یا تمہارے لئے خیر لائے گا یا شر لائے گا اسی طرح جب رات آئے گی تویا تمہارے لئے خیر لائے گی یا شر لائے گی۔جب دن جائے گا تو یا تمہارے لئے خیر چھوڑ جائے گا یا شر چھوڑ جائے گا اور جب رات جائے گی تو وہ بھی تمہارے لئے یا خیر چھوڑ جائے گی یا شر چھوڑ جائے گی تم ہر تغیر کے وقت عبادت کر لیا کرو اگر دن اور رات کا آنا جانا تمہارے لیے خیر لائے گا تو تمہاری خیر دگنی ہو جائے گی اور اگر شر لائے گا تو عبادت سے وہ شر کٹ جائے گا اور تمہارا پہلو یقینی طور پر محفوظ ہو جائے گا۔اسی طرح فر ما تاہے فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ۔فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍ۔وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ۔فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ۔وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِيَهْ۔نَارٌ حَامِيَةٌ (القارعۃ:۷تا۱۲) جس کے وزن بھاری ہو جائیں گے (بھاری کا یہ مطلب ہے کہ بمقابلہ بدی کے اس کی نیکیاں بڑھ جائیں گی) اسے ہمارے قرب کا مقام حاصل ہو گا اور اس کی اُخروی حیات سنور جائے گی۔وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ لیکن جس کے وزن ہلکے رہیں گے فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ۔اُس کی ماں ہاویہ ہوگی۔بدی کا کوئی وزن نہیں وزن صرف نیکی کا ہے قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ وزن اصل میں نیکی کا ہی ہوتا ہے بدی کا نہیں ہوتا۔اس مسئلہ کے نہ سمجھنے کی وجہ سے بھی لوگوں نے بڑی بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ وزن والی چیز صرف نیکی ہی ہوتی ہے بدی کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔پس اَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ کا یہ مطلب ہے کہ جس کی بدیوں نے اس کی نیکیوں کو کاٹ نہیں دیا اور اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ کا یہ مطلب ہے کہ جس کا وزن گھٹ گیا یعنی نیکیاں باقی نہ رہیںفَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ وہ دوزخ میں گرایا جائے گا۔پھر فرمایا وَ الْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَظْلِمُوْنَ(الاعراف:۹،۱۰) اس دن وزن کا ہونا ایک قطعی اور