تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 99
سامسامنے اسی طرح آ جائے گا جس طرح کوئی بڑے سے بڑا کام آتا ہے۔غرض یہ آیت ایسی ہے جو انسانی زندگی کی کایا پلٹنے والی اور لوگوں کے قلوب میں ایک نئی امنگ،نئی روح اور نئی بیداری پیدا کرنے والی ہے اگر یہ آیت نہ اترتی تو اکثر انسان اپنے آپ کو لاوارث سمجھتے کیونکہ اکثر انسان ایسے ہوتے ہیں جن کی نہ خیر عظیم الشان ہوتی ہے نہ شر عظیم الشان ہوتا ہے۔پس اربوں آدمیوں کی دنیا میں اگر تم قاتل تلاش کرنے لگو تو وہ بھی تمہیں زیادہ سے زیادہ لاکھ دو لاکھ ملیں گے اور تم دیکھو گے کہ دنیا میں شر کے لحاظ سے بھی صرف چند کی طرف لوگوں کی توجہ پھرتی ہے سب کی طرف نہیں۔حالانکہ ایک قاتل یا ایک ڈاکو یا ایک چور جسے برا سمجھا جاتا ہے اس کے مقابل میں اور بھی لاکھوں لوگ ہوتے ہیں جن سے شر ظاہر ہوتا رہتا ہے مگر لوگوں پر ان کے شر کی کیفیت مخفی رہتی ہے۔مثلاً قاتل تو اپنی زندگی میں صرف ایک یا دو قتل کرتا ہے مگر ایک اور آدمی ایسا ہوتا ہے جس سے سارا دن شر ظاہر ہوتا رہتا ہے۔کسی کو اچھے لباس میں ملبوس دیکھتا ہے تو اس کا دل کباب ہو جاتا ہے۔کسی کو اچھا کھانا کھاتے دیکھتا ہے تو کہتا ہے اس کمبخت کا گلا بھی نہیں گھٹتا۔کسی کو آرام و آسائش میں زندگی بسر کرتے دیکھتا ہے تو جل بھن کر رہ جاتا ہے اور کہتا ہے یہ مرتا بھی نہیں اس کمبخت پر کوئی بیماری بھی نہیں آتی کہ اسے بھی تکلیف کا احساس ہو۔غرض سارادن اس سے شر ظاہر ہوتا رہتا ہے مگر اس کے شر کی دنیا میں کوئی نمائش نہیں ہوتی اور اسی حالت میں اس کی تمام عمر گذر جاتی ہے۔اس کے مقابل میں ایک اور شخص ایسا ہوتا ہے جس کے پاس کروڑ دو کروڑ روپیہ نہیں ہوتا کہ وہ آکسفورڈ یو نیو رسٹی قائم کردے یا کوئی اور علمی ادارہ قائم کرے بلکہ اکثر لوگ دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ کی راہ میں چند پیسے دینے کی بھی توفیق نہیں ہوتی مگر وہ سارا دن اپنے دل میں یہی کہتے رہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ دنیا کا بھلا کرے۔اﷲ تعالیٰ دنیا کو بلائوں سے نجات دے۔اﷲ تعالیٰ لوگوں کی مصیبتوں اور ان کی تکلیفوں کو دور کرے۔اﷲتعالیٰ ان کے لئے اپنے فضل کے دروازے کھولے یہی دعائیں ان کے ورد زبان رہتی ہیں اور وہ اسی حالت میں دنیا سے گذر جاتے ہیں کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ ان سے کیا کیا خیر ظاہر ہوتی رہی ہے اگر لوگوں کا خدا تعالیٰ کے ساتھ معاملہ نہ ہو اور ساری دنیا اسی طرح مر جائے جس طرح پہاڑوں میں پیدا ہونے والی بوٹیاں چند دن اپنی بہار دکھا کر خاک ہو جاتی ہیں تو ان کے اعمال خیر بھی فناہو جاتے اوراعمال شر بھی فنا ہو جاتے۔نہ نیکوں کو ان کی نیکی کا کوئی فائدہ پہنچتا اور نہ بدوں کو ان کی شرارتوں کا کوئی خمیازہ بھگتنا پڑتا۔نیک لوگ اپنے آپ کو لاوارث سمجھتے اور برے لوگ تمرد اور سرکشی میں بڑھ جاتے اور وہ سمجھتے کہ ہم سے کوئی گر فت کرنے والا نہیں ہے جو کچھ ہمارے جی میں آئے ہم کر سکتے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ اگر تمہارے دل میں یہ خیال آئے تو غلطی کرو گے مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔