تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 98

ایک ہستی ایسی ہوتی جس کے علم میں انسان کا ہر چھوٹے سے چھوٹا فعل آجا تا اور وہ اس کے مطابق اس کو بدلہ دیتا تاکہ خیر کرنے والے کو یہ حسرت نہ رہے کہ میری فلاں نیکی ضائع چلی گئی اور شر کرنے والے کو یہ غرور نہ رہے کہ میں نے فلاں شر تو کیا مگر میں اس کے تلخ انجام سے محفوظ رہا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بہت سے اعمال خیر اور بہت سے اعمال شر ظاہر ہو جاتے ہیں بالخصوص وہ عمل خیر یا وہ عمل شر جو عظیم الشان ہو عام طور پر مخفی نہیں رہتا اور لوگوں کو اس کا ضرور علم ہوجا تا ہے لیکن چھوٹے گناہ اور چھوٹی نیکیا ں تو ہزاروں ایسی ہیں جو بالکل مخفی رہتی ہیں مثلاً کسی کے دل میں نیکی کا خیال آنا یہ خود ایک عمل خیر ہے اور کسی کے دل میں کسی برائی کا پیدا ہونا یہ خود ایک شرہے مگر کون دوسرے کے دل کو پھاڑ کر دیکھ سکتا ہے کہ اس میں شر پید ا ہے یا عمل خیر پرورش پا رہا ہے۔لیکن جب ایک زندہ اور علیم و خبیر ہستی موجود ہو تو پھر اس امر کا کوئی خدشہ نہیں رہ سکتا کہ میری نیکی مخفی رہ جائے گی یا بدی چھپ سکے گی کیونکہ وہ ہستی ہروقت انسان کی نگران ہوگی اور اس کے کسی چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی ضائع نہیں جانے دے گی۔پھر اگر ہم انسانی اعمال پر نظر دوڑائیں اور بنی نوع انسان کی اکثریت کو دیکھیں تو ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ انسانی اعمال سب کے سب بڑے نہیں ہوتے بلکہ ان میں سے اکثر چھوٹے ہوتے ہیں۔بڑا عمل کرنے کی کسی کسی انسان کو توفیق ملتی ہے ورنہ ہزاروں انسان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی ساری عمر گذر جاتی ہے مگر ان کو کوئی بڑا کام کرنے کی توفیق نہیں ملتی اور اس وجہ سے وہ نمایاں طور پر لوگوں کے سامنے نہیں آتے۔وہ دنیا کی نگاہوں سے مخفی رہتے اور مخفی ہونے کی حالت میں ہی اس دنیا سے گذر جاتے ہیں۔ان کی حیثیت با لکل ان بوٹیوں کی سی ہوتی ہے جو پہاڑوں میں پیدا ہوتی اور کچھ عرصہ کے بعد مرجھا جاتی ہیں نہ ان سے کوئی فائدہ اٹھاتا ہے نہ کسی کو ان کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔پس اگر دنیا کا کوئی خدا نہ ہوتا۔اگر ایک ایسی ہستی موجود نہ ہوتی جس کی نظر انسان کے دل کے مخفی گوشوں تک وسیع ہے اور جو انسان کے چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی جاننے والا اور انسان کو اس کی جزا دینے والا ہے تو وہ لوگ تو زندہ ہی مر جاتے جن کی ساری عمر گذر جاتی ہے مگر ان سے کوئی بڑا عمل ظاہر نہیں ہوتا۔یہی حکمت ہے کہ اسلام نے بنی نوع انسان کو یہ مژدۂِ جانفزاسنایا کہ اس عالم کا ایک خدا ہے جس کی نگاہ میں انسان کا ہر چھوٹے سے چھوٹا کام آجا تا ہے۔اگر کوئی عمل خیر کرتا ہے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے اور اگر کوئی عمل شر کرتا ہے تو بھی خدا تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے۔تم مت سجھو کہ تمہارے اعمال ضائع چلے جائیں گے اور ان کا کوئی نتیجہ رونمانہیں ہوگا۔اگر دنیا میں تمہارے اعمال خیر مخفی رہے ہیں اور کسی نے ان کو نہیں دیکھا تو تم مت گھبرائو آسمان پر ایک زندہ خدا موجود ہے جو تمہارے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے وہ تمہیں نیکیوں کی جزاء دے گا اور تمہارا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی اس کے