تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 96
ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ الْفَازَّۃَ الْـجَامِعَۃَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ۔فَازَّۃٌ کے معنے ہیں منع کرنے والی اور جَامِعَۃٌ کے معنے ہیں سمیٹنے والی یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بارہ میں مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک فازہ اور جامعہ آیت نازل ہو چکی ہے کہ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ یعنی ہر چیز جس کو نکالنا مقصود ہے اس کو اس آیت کے ذریعہ نکال دیا گیا ہے اور ہر چیز جس کو سمیٹنا مقصود ہے اس کو اس آیت کے ذریعہ سمیٹ لیا گیا ہے۔گویا یہ آیت جزائے خیر و شر کے متعلق ایک جامع مانع قاعدہ پر مشتمل ہے۔جزائے خیر اور جزائے شر سے تعلق رکھنے والی کوئی بات نہیںجو اس میں بیان نہ کی گئی ہو اگر غور کر کے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ دنیا میں انسان ہزاروں کام خیر یا شر سے تعلق رکھنے والے کرتا ہے مگر وہ خیر اور شر کے سب کام مٹ جاتے ہیں اور کسی کو علم بھی نہیںہوتا کہ زید نے فلاں خیر کا کام کیا تھا یا بکر سے فلاں شر کا صدور ہوا تھا۔بیسیوں انسان دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کی بدخواہی کے خیالات اپنے دلوں میں رکھتے ہیں مگر جن لوگوں کی برائی کے خیالات ہر وقت اس کے دل و دماغ میںپرورش پا رہے ہوتے ہیں ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں ہوتا کہ فلاں شخص ہمارے متعلق کیسے برے خیالات رکھتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا جو شخص کسی کے متعلق غیبت میںکوئی برا کلمہ کہتا ہے اور ایک تیسرا شخص جو اس بات کو سن رہا ہوتا ہے اس جگہ سے اٹھ کر دوسرے شخص کے پاس چلا جاتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ تمہارے متعلق آج فلاں نے یہ بات کہی ہے تو اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کسی نے دوسرے کی طرف تیر پھینکا مگر وہ تیر اس کو لگا نہیں بلکہ زمین پر گر پڑا۔یہ دیکھ کر ایک اور شخص دوڑا دوڑا آیا اور اس نے وہ تیر اٹھا کر اپنے ہاتھوں سے دوسرے کے سینہ میں پیوست کر دیا۔بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ ہزاروں لوگ دوسروں کی بدخواہی کے خیالات اپنے دلوں میںرکھتے ہیں مگر ان کا کوئی نتیجہ برآمد نہیںہوتا نہ دوسروں کو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے متعلق فلاں شخص کیسے گندے خیالات رکھتا ہے اور نہ اس کے ان خیالات کا دنیا میں کوئی نتیجہ ظاہر ہوتا ہے۔اسی طرح ہزاروں لوگ ایسے ہیں جن کے دلوں میں دوسروـں کے متعلق نیک خیالات پیدا ہوتے ہیں،مگر ان دوسرے اشخاص کو کچھ بھی علم نہیں ہوتا کہ فلاں شخص کو ہم سے محبت ہے یا اس کا دل ہماری ہمدردی اور خیرخواہی کے جذبات سے لبریز ہے۔ایک شخص کو دوسرے سے غائبانہ محبت ہوتی ہے مگر اس وجہ سے کہ محبت اس کے دل میں مخفی ہوتی ہے دوسرا شخص محض بے خبر ہوتا ہے اور اسے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ فلاں شخص میرا دوست ہےمجھ سے محبت کرتا ہے اور میری مصیبت کی گھڑیوں میں میرا ساتھ دینے والا ہے۔اس کے علاوہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ دو شخص آپس میں گہرے دوست ہوتے ہیں، ان کے ایک دوسرے سے مخلصانہ تعلقات