تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 97

ہوتے ہیں اور وہ مصیبت میں ایک دوسرے کے ہمیشہ کام آتے رہتے ہیں مگر اس کے باوجود ایک کو دوسرے کے اندرونی جذبات کا علم نہیں ہوتا۔ان میں سے ایک شخص راتوں کو اٹھتا اور اﷲ تعالیٰ سے اس کے لئے رو رو کر دعائیں مانگتا ہے مگر دوسرے کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ رات کی تاریکیوں میں جب ساری دنیا محوِ استراحت ہوتی ہے میرا دوست میرے لئے اﷲ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہے اور وہ میری بھلائی کے لئے اﷲ تعالیٰ کی رحمت کے دروازہ کو کھٹکھٹا رہا ہے۔غرض دنیا میں ہمیں یہ نظارہ نظر آتا ہے کہ ہزاروں ہزار اعمال خیر اور ہزاروں اعمال شر لوگوں کی نگاہ سے مخفی رہتے ہیں۔لیکن فرماتا ہے اﷲ تعالیٰ کے معاملہ میں یہ بات نہیں اﷲ تعالیٰ کے حضور کسی کا خفیف سے خفیف خیر اور کسی کا خفیف سے خفیف شر بھی ضائع نہیں جاتا۔وہ ہر خیر سے آگاہ ہے وہ ہر شر سے واقف ہے اور خواہ کوئی کتنا ہی حقیر اور معمولی کام ہو اس کی نگاہ سے مخفی نہیں ہو سکتا۔تم مت سمجھو کہ جس طرح بنی نوع انسان کے معاملات میں تمہارے خیر کے اعمال بھی مخفی رہتے ہیں اور تمہارے شر کے اعمال بھی مخفی رہتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کا حال ہو گا ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ۔وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ۔بنی نوع انسان کے معاملہ میں بسا اوقات تمہارے خیر کے پہاڑ بھی غائب ہو جاتے ہیں اسی طرح بنی نوع انسان کے معاملہ میں تمہارے شر کے پہاڑ بھی غائب ہو جاتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کی نگاہ سے تمہارا کوئی عمل مخفی نہیں ہو سکتا۔دنیا میں تو ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص عملِ شر کرے اور دوسرے لوگوں سے مخفی رہے مگر خدا تعالیٰ کے حضور ایسا نہیں ہو سکتا۔مثلاً دنیا میں ہزاروں واقعات ایسے ہو تے رہتے ہیں کہ بعض لوگ دوسروں کو چوری چھپے زہر دے دیتے ہیں اور باوجود تلاش و جستجو کے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کس نے زہر دی۔اسی طرح ہزاروں قاتل ایسے ہوتے ہیں جو پکڑے نہیں جاتے۔اب جہاں تک شر کا تعلق ہے قاتل نے دوسرے پر شر کا ایک پہاڑ گرا دیا مگر وہ مخفی رہا۔کئی لوگ دوسرے کو جنگل میں اکیلا پا کر قتل کر دیتے ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی کہ کس نے قتل کیا ہے۔بالکل ممکن ہے ایک شخص دوسرے کو علیحدگی میں قتل کر کے آجائے اور پھر اسی مقتول کے بیٹے کا دوست بن جائے۔وہ دونوں دانت کاٹی روٹی کھانے لگیں اس کا بیٹا اپنے دوست کے لئے جان تک دینے کے لئے تیار رہے اور اسے یہ معلوم تک نہ ہو کہ میرے باپ کو اسی شخص نے قتل کیا تھا جس سے میں محبت کی پینگیں بڑھا رہا ہوں۔غرض دنیا میں ہمیشہ یہ نظارے نظر آتے ہیں۔کہ ایک شخص شر کا پہاڑ اٹھا کر دوسرے پر گرا دیتا ہے مگر خود اس طرح غائب ہو جاتا ہے کہ دوسرے کو پتہ تک نہیں چلتا کہ میرے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ہے اور چونکہ بہت سے اعمال خیر اور بہت سے اعمال شردنیا میں ظاہر نہیں ہوتے اس لئے ضروری تھا کہ