تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 77
بستر پر لیٹے ہوئے خراٹے مار رہا ہوتا ہے۔دن کو اس کی ہوشیاری اور چالاکی دیکھ کر حیرت آتی ہے اور رات کو اس کی نیند اور غفلت دیکھ کر حیرت آتی ہے۔اور اگر فطرتیں ہی الگ الگ ہوں تو پھر تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔بعض کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ جاگتے ہوئے بھی سو رہے ہوتے ہیںاور بعض کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ سوتے ہوئے بھی جاگ رہے ہوتے ہیں۔حماسہ میں تَاَ بَّطَ شَرًّا کا واقعہ آتا ہے (یہ صفاتی نام ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنی بغل میں شرارت دبائے پھرتاتھا ) اس لڑکے کا باپ مر گیا اور اپنے بیٹے کے لئے بہت بڑی جائیداد چھوڑ گیا۔اس کی والدہ نے کسی اور سے نکاح کر لیا۔سوتیلے باپ نے جائیداد دیکھ کر چاہا کہ میں اس لڑکے کا خاتمہ کر دوں تا کہ اکیلا اس جائیداد سے فائدہ اٹھائوں۔چنانچہ وہ اسے سیرکے بہانے کہیں باہر لے گیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ رات کو جب یہ سو جائے گا تو میں اسے قتل کر دوں گا۔جب لڑکا سو گیا تو باپ اٹھا تا کہ اسے مار ڈالے مگر ابھی اس کے پائوں زمین پر پڑے ہی تھے کہ لڑکا تلوار لے کر کھڑا ہو گیا اور پوچھا کیا بات ہے۔باپ نے کہا کچھ نہیں یونہی کسی کام کے لئے اٹھا تھا۔گھنٹہ دو گھنٹے گزرنے کے بعد وہ پھر اٹھا کہ اسے قتل کر دے مگر اس کے اٹھنے کے ساتھ ہی لڑکا پھر بیدار ہوگیا اور پوچھنے لگا کیا بات ہے۔باپ نے پھر کوئی بہانہ کر دیا۔اسی طرح ساری رات وہ اس کوشش میںرہا کہ کسی طرح لڑکا سو جائے تو میں اسے قتل کر دوں مگر وہ کامیاب نہ ہو سکا۔جب بھی اٹھتالڑکا تلوار لے کر کھڑا ہوجاتا اور کہتا کیا بات ہے؟ لڑکا مضبوط تھا اور یہ بڑی عمر کا تھا اس وجہ سے بھی اس پر ڈر غالب آگیا اور آخر دوسرے دن وہ اسے واپس لے آیا اور اس نے سمجھ لیا کہ میں اسے قتل نہیں کر سکتا۔الغرض بعض طبیعتیں ایسی ہوتی ہیں کہ سوتے ہوئے بھی جاگ رہی ہوتی ہیں ذرا کوئی آہٹ ہو فوراً کھڑے ہو جاتے ہیں۔لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن پر دن کو بھی رات کی کیفیت طاری رہتی ہے وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں لیکن بیٹھے بیٹھے اونگھنے لگ جاتے ہیں اور بعض بڑے اطمینان کے ساتھ ایک طرف لیٹ کر سو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ا س سورۃ میںانہی کیفیات کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے ایک رات کی حالت ہوتی ہے اور ایک دن کی۔رات کا وقت ایسا ہوتا ہے کہ خواہ کوئی چست اور ہوشیار ہو اس پر بھی نیند طاری ہو جاتی ہے۔بعض تو ایسے سوتے ہیں کہ کتنا جھنجھوڑو ان کی آنکھ نہیں کھلتی۔بار بار جگانے پر بھی بیدار نہیں ہوتے۔سردیاں ہوں تو لحاف میں سے نہیں نکلتے اور گرمیاں ہو ں تو پانی کے چھینٹے مارنے پر بھی پہلو بدل کر سو جاتے ہیں لیکن دن کا وقت کام کا ہوتا ہے اس میں چست آدمی تو اپنی ترقی کے لئے کئی قسم کے کاموں کو اختیار کر لیتا ہے لیکن سست آدمی کو دن کے وقت تو کچھ نہ کچھ کام کرنا ہی پڑتا ہے مگر رات ساری اس کی سوتے ہی گذرتی ہے۔رات اور دن کی طرح انسانوں کی بھی دو قسمیں ہوتی ہیں۔بعض قوموں پر رات کا زمانہ آیا ہوا ہوتا ہے اور بعض پر دن کا زمانہ