تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 78
ہوتاہے۔جو قومیں رات کے مشابہ ہوتی ہیں یا یوںکہو کہ جن پر رات آئی ہوئی ہوتی ہے وہ دن کو بھی سوتے ہیں اور رات کو بھی سوتے ہیں یعنی رات تو سوتے گذر جاتی ہے دن بھی کسی ایسے کام میں نہیں گذرتے کہ ان کے لئے یا ان کی قوم کے لئے کوئی اچھا نتیجہ نکلے اور اس کے برخلاف جن اقوام پر دن کا زمانہ ہوتا ہے ان کے دن تو کام میں گذرتے ہیں ان کی راتیں بھی بیکار نہیںجاتیں اور وہ تاریکیوں اور مصیبتوں کے اوقات میں بھی اتنا کام کر جاتے ہیںکہ رات والی قوموں کو دن کے وقت یعنی ہر قسم کے سامانوں کی موجودگی میں بھی اتنے کام کا موقعہ نہیں ملتا۔اسی کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے فرماتا ہے وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى۔ہم شہادت کے طورپر رات کو پیش کرتے ہیںجب وہ ڈھانپ لیتی ہے یعنی انسانی قویٰ پر چھا جاتی ہے جب سب لوگ سو جاتے ہیں اور حرکت کی جگہ سکون لے لیتا ہے گویا صرف تاریکی ہی نہیں ہوتی بلکہ عملاً ہر شے کو رات ڈھانک لیتی ہے۔رات کو اندھیرے میں سفر کرو تو راستہ بہت کم طے ہوتا ہے کیونکہ سنبھل سنبھل کر چلنا پڑتا ہے۔موٹر میں بھی سفر کیا جائے تو رات کو اس کی رفتار آدھی رہ جاتی ہے کیونکہ خطرہ ہوتا ہے کہ کوئی نیچے نہ آجائے یا اندھیرے کی وجہ سے کوئی حادثہ نہ پیش آ جائے۔اس وجہ سے ڈرائیور موٹر کی رفتار کو کم کر دیتا ہے۔پھر اگر وہ خود ہی سو جائے تو اور بھی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔بہرحال رات کو صرف تاریکی ہی نہیں ہوتی بلکہ عملاً ہر شے کو وہ ڈھانپ لیتی ہے یعنی صرف جسم ہی نہیں بلکہ جب انسان سو جاتا ہے تو اس کی عقل اور فکر بھی رات کی حکومت میں آجاتا ہے پھر اسے اپنے برے بھلے کی کچھ تمیز نہیں رہتی۔یہ تو رات کی کیفیت تھی اس کے بعد فرمایا ہم اس کے بالمقابل تمہارے سامنے دن کو پیش کرتے ہیں جب وہ اس قدر روشن ہو جاتا ہے کہ سونا اور غافل رہنا بالکل نا ممکن ہوتا ہے۔یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ پہلی آیت میں خدا تعالیٰ نے صرف رات کو پیش نہیں کیا کیونکہ رات کا ایک حصہ ایسا ہوتا ہے جس میں سب لوگ جاگ رہے ہوتے ہیں۔چنانچہ مسلمان تو لازماً سورج غروب ہونے کے بعد مغرب کی نماز ادا کرتے ہیں پھر کچھ دیر کے بعد عشاء کی نماز پڑھتے ہیں اور سنتوں اور وتر کی ادائیگی کے بعد ذکر الٰہی کرتے ہیں اس کے بعد وہ سونے کی تیاری کرتے ہیں یا جو لوگ مطالعہ کرنا چاہیں وہ پہلے مطالعہ کرتے ہیں اور پھر سوتے ہیں۔عیاش قومیں تھیئٹر و سینمائوں، ناچ گھروں، شراب خانوں میں اپنے وقت خرچ کرتی ہیں امراء کلبوں میں تاش و بِلْیَرْڈ کھیلتے ہیں پس ساری رات سونے کے کام نہیں آتی بلکہ رات کا ایک حصہ ایسا ہوتا ہے جس میں لوگ بیدار رہتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے صرف لیل کو بطور شہادت پیش نہیں کیا بلکہ وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى فرمایا ہے یعنی ہم رات کی اس حالت کو تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں جب وہ عملاً ہر چیز کو ڈھانک لیتی ہے اور صرف جسم ہی نہیں بلکہ انسانی عقل