تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 76

یعنی ’’ قرآن کے پرانے تین نسخوں کے متفرق اوراق‘‘ کے نام سے شائع کر دیا۔(Leaves From Three Ancient Qurans Edited by Rev Alphonse Mingana and Agnes Smith Lewis) جب وہ کتاب شائع ہوئی تو لوگوں میں بڑا شور اٹھا اور عیسائیوں میںیہ سمجھا جانے لگا کہ اب قرآن کریم کی حفاظت کا دعویٰ بالکل باطل ہو گیا ہے۔میں نے بھی وہ کتاب منگوائی تا کہ میں دیکھوں کہ قرآن کی حفاظت کے خلاف اس میں کون سے دلائل دیئے گئے ہیں۔جب میں نے اسے پڑھا تو مجھے معلوم ہوا کہ جو نسخے اس کے پیش کئے گئے ہیںان میں اسی قسم کا اختلاف ہے کہ کسی جگہ مَا کی جگہ مَنْ ہے اور کسی جگہ مَنْ کی جگہ مَا ہے۔کسی جگہ قَالُوْا کے آگے الف ہے اور کسی جگہ الف نہیں۔کسی جگہ ہُ کی بجائے ھُمْ کی ضمیر استعمال کی گئی ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ اس قرآنی نسخہ کا اختلاف یا تو بعض قرأتوں پر مبنی تھا یا کتابت کی غلطیاں تھیںاور بس۔میں نے اسے پڑھ کر نتیجہ نکالا کہ اگر ان مزعومہ قدیم نسخوںکو درست سمجھا جائے تب بھی اس سے قرآن کریم کے محفوظ ہونے کا ثبوت ملتا ہے کیونکہ اس کی عبارات معنوں کے لحاظ سے کوئی فرق پیدا نہیں کرتیں۔صرف کسی جگہ مَا کی جگہ مَنْ اور ہُ کی جگہ ھُمْ کی ضمیر بدلی ہوئی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مختلف قرأتوں کا فرق ہے اور کچھ بھی نہیں۔غرض عیسائیوں کے کتب خانہ میں سے بھی کوئی کتاب ایسی نہ نکلی جو قرأت کے اس فرق کے علاوہ قرآن کریم کے نسخوں میںکوئی اور فرق ثابت کر سکتی۔اختلاف قرأت کے فوائد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی اسی قرأت کے فرق کو بعض جگہ پیش کیا ہے۔مثلاً وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ کی تفسیر کرتے ہوئے آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ مَوْتِهٖ کی بجائے ایک قرأت مَوْتِھِمْ بھی آتی ہے(الحق مباحثہ دہلی روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۱۶۲) جو آپ کے بیان کردہ مضمون کی تائید کرتی ہے۔پس قرأتوں کا اختلاف یا تو قبائلی زبانو ں کے فرق کے ضرر سے بچانے کے لئے ہے یا قرآنی معنوں کی وسعت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے۔اختلاف ِ قرأت کی حکمت بتانے کے بعد میں اب آیت کی تفسیر کی طرف توجہ کرتا ہوں۔اس سورۃ میں یہ بتایا گیا ہے کہ رات کے وقت انسانی اعمال اور قسم کے ہوتے ہیںاور دن کے وقت اور قسم کے۔مثلاً رات کو لوگ سونے کی تیاری کرتے ہیںاور دن کو کام کرنے کی تیاری کرتے ہیں۔آدمی وہی ہوتا ہے لیکن پھر بھی اس کے اعمال الگ الگ اوقات میںالگ الگ اقسام کے ہوتے ہیں۔وہی آدمی جو دن کے وقت دوڑا بھاگا پھرتا ہے رات کے وقت