تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 75
اور اصل قرأت کے سوا باقی قرأتوں سے منع فرما دیا اور عربوں اور عجمیوں کو ایک ہی قرأت پر جمع کرنے کے لئے تلاوت کے لئے ایسے نسخوں کی اجازت دی جو حجازی اور ابتدائی قرأت کے مطابق تھے۔ابن اُم عبد کا یہ واقعہ بھی اسی قسم کے قرأت کے اختلاف کے متعلق ہے۔عربی زبان میں مَا کا استعمال کئی معنوں میں ہوتا ہے مَا نافیہ بھی ہے اور مصدریہ بھی اور مَا مَنْ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔چونکہ جب مصدری معنے اور مَنْ کے معنے دونوں ہی مراد ہوں تو ایسے مقام پر مَنْ کا استعمال کرنا یا مصدر کا استعمال کرنا مفید نہیں ہو سکتا کیونکہ مصدر ایک معنے دے گا اور مَنْ دوسرے معنے دے گا دونوںمعنے کسی ایک طریق کے استعمال سے ظاہر نہ ہوں گے مگر چونکہ ایسے کئی مواقع قرآن کریم میں آتے ہیں جب کہ مصدری معنے اور مَنْ کے معنے دونوں ہی بتانے مقصود ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں ایسے مواقع پر مَا کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تا یہ دونوں مفہوم ظاہر ہوں۔مگر بعض عرب قبائل مَا کے مصدری معنے تو کرتے ہیںلیکن مَا کا استعمال مَنْ کی جگہ ناجائز سمجھتے ہیں اس لئے اس استعمال سے ان کے لئے مشکل پیش آجاتی تھی پس اس کو دور کرنے کے لئے وَالذَّکَرِوَالْاُنْثٰى کی قرأت کی بھی اجازت دے دی گئی۔جو جملہ ایک حد تک مَا کا مفہوم ادا کر دیتا ہے لیکن چونکہ ویسا مکمل مفہوم ادا نہیں کر تا جیسے مَا اس لئے اصل قرآنی عبارت کے طور پر اسے استعمال نہیں کیا گیا صرف عارضی قرأت کے طور پر اس کا استعمال جائز رکھا گیا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابوالدرداء کو کوئی غلطی لگی ہو جب وہ خود کہتے ہیںکہ صحابہؓ مجھ پر زور دیتے ہیں کہ میں وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى پڑھوں۔تو اس کے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اس بارہ میں ضرور کوئی بھول چوک واقعہ ہو گئی ہے ورنہ صحابہ ؓکی اکثریت ان پر یہ زور نہ ڈالتی کہ اصل قرأت وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰى ہی ہے وَالذَّکَرِوَالْاُنْثٰى نہیں ہے۔پس اوّل تو ضروری نہیں کہ ہم اس کو دوسری قرأت قرار دیں جب کثرت سے صحابہؓ کہتے ہیں کہ یہ قرأت نہیں تو ضروری ہے کہ ہم اسے قرأت قرار نہ دیں بلکہ ابوالدرداء کی رائے کو غلط سمجھیں۔لیکن اگر اس قرأت کو تسلیم کر لیا جائے تب بھی جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اس سے آیت کے معنوں میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا اور قرأت کا اختلاف قرآن کریم کے کسی نقص پر نہیں بلکہ اس کے معنوں کی وسعت پر دلالت کرتا ہے۔قریب کے زمانہ میں ایک انگریز نے قرآن کریم کے تین پرانے نسخے نکالے ہیں وہ حلب میں ایک مسیحی مونسٹری MONESTRY میں پروفیسر مقر رتھا۔اس نے اپنے زعم میںقرآن کریم کے تین پرانے نسخے حاصل کئے ہیں اور ان کے باہمی اختلافات کو اس نے LEAVES FROM THREE DIFFERENT QURANS