تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 74

پڑھا دی۔اس قسم کے چھوٹے چھوٹے فرق ہیں جو مختلف قرأتوں کی وجہ سے پیدا ہو گئے تھے مگر ان کا نفسِ مضمون پر کوئی اثر نہیںپڑتاتھا ہر شخص سمجھتا تھا کہ یہ تمدن اور تعلیم اور زبان کے فرق کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔میں ایک دفعہ کراچی میں تھا کہ وہاں ایک ایجنٹ ایک کروڑ پتی تاجر کو مجھ سے ملانے کے لئے آیا۔ایجنٹ شہری تھا اور تاجر گنواری علاقہ کا۔جب وہ تاجر مجھ سے بات کرنے لگا تو مجھے مخاطب کر کے کہتا کہ ’’تم نوں‘‘ یہ بات معلوم ہو گی۔اب اوّل تو تم کا لفظ شہریوں میںمعزز آدمی کو خطاب کرتے ہوئے استعمال نہیںکرتے دوسرے تم کے ساتھ ’’نوں‘‘ لگانا تو اور بھی معیوب ہے۔اردو میںکہیں گے تم کو نہ کہ تم نوں۔جب وہ تاجر مجھے تم نوں کہتا تو میںنے دیکھا اسے ساتھ لانے والا ایجنٹ بے حد اضطراب کے ساتھ اپنی کرسی پر پہلو بدلنے لگ جاتا اور میر ی طرف دیکھتا کہ ان پر اس گفتگو کا کیا اثر ہوا ہے اور مجھے تاجر کے تم نوں اور ایجنٹ کی گھبراہٹ پر لطف آرہا تھا۔اب معنوں کے لحاظ سے ’’آپ کو‘‘ اور ’’تم نوں‘‘ میں کوئی بھی فرق نہیں لیکن ایک شہری کے لئے ’’تم نوں‘‘ کہنا اور ایک انبالہ پٹیالہ کے گنوار کے لئے ’’آ پ کو‘‘ کہنا ایک مجاہد ہ سے کم نہیں۔پنجاب میںگجرات کی طرف کے لوگ پکڑنے کو ’’پھدنا‘‘ کہتے ہیں اور ہماری طرف کے لوگ ’’پھڑنا‘‘۔ہم لوگ پھدنا کہیں تو ماتھے پر پسینہ آجاتا ہے گجراتی پھڑنا کہے تواس کے گلے میں پھندے پڑتے ہیں۔گورداسپور میں شریر آدمی کوشُہْدا کہتے ہیں۔ضلع سرگودہا میںشریف اور نیک طبیعت کو شُہْدا کہتے ہیں۔ایک دفعہ حضرت خلیفۂ اوّلؓ کی ایک عزیزہ آئی کسی ذکر پر اس نے آپ کی نسبت کہا ’’اوساں شہدے نوں انہاں گلاں دا کی پتا‘‘۔یعنی مولوی صاحب شریف آدمی ہیں ان کو ایسی باتوں کا کیا علم۔اس طرف کی مستورات نے ایک دفعہ اس فقرہ کو سنا اور حیا ء کے ماتحت برداشت کر گئیں مگر اتفاق سے اس نے پھر دہرایا تو وہ اس سے دست و گریباں ہونے کو تیار ہو گئیں اور کہا کہ کچھ حیا ء کرو تم تو گالیاں دے رہی ہو۔اس غریب نے حیرت سے پوچھا کہ میں تعریف کر رہی ہوں کہ گالیاں دیتی ہوں۔’’ اوہ شُہْدا تے ہے ‘‘۔آخر کسی عورت نے جو اس فرق کو سمجھتی تھی اس جوش کو ٹھنڈا کیا۔اب دیکھو اگر کسی کتاب میںجو سارے پنجاب کے لئے لکھی گئی ہو کسی بزرگ کی نسبت شُہْدے کا لفظ آجائے تو اس کی توضیح یا دوسرے علاقہ کے لئے دوسرے لفظ کا استعمال مقرر کرنا ضروری ہو گا یا نہیں؟ یہی ضرورت اس زمانہ میں مختلف قرأتوں کی اجازت کی تھی لیکن جب تمدن اور حکومت کے ذریعہ سے قبائلی حالت کی جگہ ایک قومیت اور ایک زبان نے لے لی اور سب لوگ حجازی زبان سے پوری طرح آشنا ہو گئے تو حضرت عثمان ؓ نے سمجھا اور صحیح سمجھا کہ اب ان قرأتوں کو قائم رکھنا اختلاف کو قائم رکھنے کا موجب ہو گا ا س لئے ان قرأتوں کا عام استعمال اب بند کرنا چاہیے باقی کتب ِ قرأت میں تو وہ محفوظ رہیں گی۔پس انہوں نے اس نیک خیال کے ماتحت عام استعمال میں حجازی