تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 70

ساتھ چلا جا رہا تھا۔میں راستہ میں عربی زبان میں اس سے گفتگو کرتا رہا اور میں نے دیکھا کہ وہ میری اکثر باتوں کو سمجھ جاتا اور ان کا جواب بھی دیتا مگر بعض دفعہ وہ حیرت سے میرے منہ کو دیکھنے لگ جاتا اور کہتا کہ میںآپ کی بات کو سمجھا نہیں۔میں حیران ہوا کہ یہ بات کیا ہے کہ یہ لڑکا عربی سمجھتا بھی ہے مگر کبھی کبھی رک بھی جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں آپ کی بات کو نہیںسمجھا۔جب میں مکہ پہنچا تو میں نے کسی سے ذکر کیا کہ یہ لڑکا عرب ہے اور عربی کوخوب سمجھتا ہے مگر باتیں کرتے کرتے بعض جگہ رک جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میری سمجھ میں بات نہیں آئی معلوم نہیںاس کی کیا وجہ ہے۔تو ان صاحب نے بتایا کہ یہ لڑکا یمنی ہے اور یمنیوں اور حجازیوں کے بعض الفاظ میںبڑا بھاری فرق ہوتا ہے اس لئے یہ اسی اختلاف کے موقعہ پر ایک دوسرے کی بات نہیںسمجھتے چنانچہ انہوں نے اس فرق کے بارہ میں یہ لطیفہ سنایا کہ مکہ میںایک امیر عورت تھی اس کا ایک یمنی ملازم تھا وہ عورت حقہ پینے کی عادی تھی وہاں عام رواج یہ ہے کہ حقہ کے نیچے کا پانی کا برتن شیشے کا ہوتا ہے اس لئے اسے کہتے بھی شیشہ ہی ہیں۔ایک دن اُس عورت نے اپنے ملازم کو بلایا اور اس سے کہا غَیِّرِالشِّیْشَۃَ شیشہ بدل دو۔لفظ تواس نے یہ کہے کہ شیشہ بدل دو مگر محاورہ کے مطابق اس کے یہ معنے ہیںکہ اس کا پانی گرا کر نیا پانی بدل کر ڈال دو۔ملازم نے یہ فقرہ سنا تو اُس کے جواب میں کہا سَتِّیْ ھٰذَا طَیِّبٌ۔بیگم صاحبہ یہ تو بڑا اچھا معلوم ہوتا ہے۔عورت نے پھر کہا کہ قُلْتُ لَکَ غَیِّرِ الشِّیْشَۃَ۔میں نے جو تم کو کہا ہے کہ بدل دو تم انکار کیوں کرتے ہو۔نوکر نے پھر حیرت کا اظہار کیااور کہا کہ سَتِّیْ ھٰذَا طَیِّبٌ۔میری آقا یہ تو اچھا بھلا ہے۔آخر آقا نے ڈانٹ کر کہا تم میرے نوکر ہو یا حاکم ہو میں جو تم سے کہہ رہی ہوں کہ اسے بدل دو تم میری بات کیوں نہیں مانتے۔نوکر نے شیشہ اٹھایا اورباہر جا کر اس زور سے زمین پر مارا کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔عور ت نے کہا ارے یہ تم نے کیا غضب کیا۔اتنا قیمتی برتن تم نے توڑ کر رکھ دیا۔نوکر نے کہا میں تو پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ یہ برتن بڑا اچھا ہے مگر آپ مانتی نہیں تھیں۔اب جو میں نے توڑ دیا تو آپ ناراض ہو رہی ہیں۔عورت نوکر پر سخت خفا ہوئی مگر ایک یمنی زبان کے واقف نے اُسے سمجھایا کہ نوکر کا قصور نہیں کیونکہ حجاز میں غَیِّرْ کے معنے بدلنے کے ہیں اور محاورہ میںجب شیشہ کے ساتھ بولا جائے تو اس کا پانی بدلنے کے ہو جاتے ہیں۔یمنی زبان میں تَغْیِیْر کے معنے توڑنے کے ہوتے ہیں پس جب تم نے غَیِّرِ الشِّیْشَۃَ کہا تو نوکر اپنی زبان کے مطابق یہ سمجھا کہ تم اسے برتن توڑنے کا حکم دے رہی ہو اسی لئے وہ بار بار کہہ رہا تھا کہ بی بی یہ تو اچھا بھلا ہے اسے کیوں تڑوا رہی ہو۔مگر جب تم نہ مانیں اور بار بار زور دیا تو وہ غریب کیا کرتا۔اب دیکھو غَیِّرِ الشِّیْشَۃَ ایک معمولی فقرہ ہے مگر زبان کے فرق کی وجہ سے یمنی نوکر نے اس کے کچھ کے کچھ معنے سمجھ لئے۔