تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 69
ہیں کہ اگر یہ روائتیں درست ہیں تو پھر ہمارا یہ کہنا درست نہیںہو سکتا کہ قرآن کریم کامل طور پر محفوظ ہے اور اس میں کسی قسم کا تغیر و تبدل نہیں ہوا۔مگر ایسا نتیجہ نکالنا درست نہ ہوگا۔اس لئے کہ شروع زمانہ سے ہی نسخ کے منکر اور حفاظتِ قرآنیہ کے قائل قرأت کے اس فرق کو تسلیم کرتے چلے آئے ہیں مگر باوجود اس فرق کے ان کے نزدیک یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ ایک قرأت دوسری کو منسوخ نہیں کرتی اور دوسرے مضمون میںفرق نہیں ڈالتی۔یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک قرأت ایسا مضمون بیان کرے جس کی دوسری قرأت حامل نہ ہو سکے ہاں بعض دفعہ وہ مضمون کو وسیع کر دیتی اور اس کی مصدق ہوتی ہے۔در اصل بعض زبانوں کے فرق کی وجہ سے یا بعض مضامین کو نمایاں کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو سبعۃ احرف پر نازل کیا ہے یعنی اس کی سا ت قرأتیںہیں۔ان قرأتوں کی وجہ سے یہ دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کہ قرآنِ کریم میںکوئی اختلاف ہے بلکہ اسے زبانوں کے فرق کا ایک طبعی نتیجہ سمجھنا چاہیے۔بسا اوقات ایک ہی لفظ ہوتا ہے مگر ایک ہی ملک کے ایک حصہ کے لوگ اسے ایک طر ح بولتے ہیںاور اسی ملک کے دوسرے حصہ کے لوگ اسے اور طرح بولتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ لفظ بدل گیا ہے یا اُس لفظ کا مفہوم تبدیل ہو گیا ہے۔لفظ بتغیر قلیل وہی رہے گا اُس لفظ کے معنے بھی وہی رہیں گے صرف اس وجہ سے کہ کوئی قوم اُس لفظ کو صحیح رنگ میں ادا نہیںکر سکتی وہ اپنی زبان میں ادا کرنے کے لئے اس کی کوئی اور شکل بنا لے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں چونکہ عرب کی آبادی کم تھی قبائل ایک دوسرے سے دور دور رہتے تھے اس لئے ان کے لہجوں اور تلفظ میں بہت فرق ہوتا تھا۔زبان ایک ہی تھی مگر بعض الفاظ کا تلفظ مختلف ہوتا تھا اور بعض دفعہ ایک معنی کے لئے ایک قبیلہ میںایک لفظ بولا جاتا تھا دوسرے قبیلہ میںدوسرا لفظ بولا جاتا تھا ان حالات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اجازت دے دی کہ فلاں فلاںالفاظ جو مختلف قبائل کے لوگوں کی زبان پر نہیںچڑھتے۔اُن کی جگہ فلاں فلاں الفاظ وہ استعمال کر لیا کریں۔چنانچہ جب تک عرب ایک قوم کی صورت اختیار نہیںکر گیا اُس وقت تک یہی طریق ان میں رائج رہا۔اگر اس کی اجازت نہ دی جاتی تو قرآن کریم کا یاد کرنا اور پڑھنا مکہ کے باشندوں کے سوا دوسرے لوگوں کے لئے مشکل ہوتا اور قرآن کریم اس سرعت سے نہ پھیلتا جس طرح کہ وہ پھیلا۔قبائل کی زبان کا یہ فرق غیر تعلیم یافتہ لوگوں میںاب تک بھی ہے تعلیم یافتہ لوگ تو کتابوں سے ایک ہی زبان سیکھتے ہیں لیکن غیر تعلیم یافتہ لوگ چونکہ آپس میںبول کر زبان سیکھتے ہیں ان میں بجائے ملکی زبان کے قبائلی زبان کا رواج زیادہ ہوتا ہے۔میں جب حج کے لئے گیا تو ایک یمنی لڑکا جو سولہ سترہ سال کا تھا اور جو سیٹھ ابو بکر صاحب کا ملازم تھا قافلہ کے