تفسیر کبیر (جلد ۱۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 652

تفسیر کبیر (جلد ۱۳) — Page 71

قرآن کریم کے بعض الفاظ کو مختلف قرأتوں میں پڑھے جانے کی اجازت دیئے جانے میں حکمت اس قسم کے الفاظ جو زبان کے اختلاف کی وجہ سے معانی میںبھی فرق پید اکر دیتے ہیں اگر قرآن کریم میں اپنی اصل صورت میں ہی پڑھے جاتے تو یہ بات آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کہ ان قبائل کو سخت مشکلات پیش آتیں اور ان کے لئے قرآن کریم کا سمجھنا مشکل ہو جاتا۔اس نقص کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے ہم معنی الفاظ پڑھنے کی اجازت دی جن سے قرآن کریم کے سمجھنے اور اس کے صحیح تلفظ کے ادا کرنے میں مختلف قبائلِ عرب کو دقت پیش نہ آئے۔پس مضمون تو وہی رہا صرف بعض الفاظ یا بعض محاورات جو ایک قوم میں استعمال ہوتے تھے اور دوسری قوم میں نہیں اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ یا ان محاورات کی جگہ ان کی زبان کے الفاظ یا اپنی زبان کے محاورات انہیں بتا دیئے تا کہ قرآن کریم کے مضامین کی حفاظت ہو سکے اور زبان کے فرق کی وجہ سے اس کی کسی بات کو سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل نہ ہوجائے۔اسی طرح اس کا پڑھنا اور یاد کرنا بھی مشکل نہ رہے ورنہ اصل قرأت قرآن کریم کی وہی ہے جو حجازی زبان کے مطابق ہے اس تفصیل کو معلوم کر کے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایک عارضی اجازت تھی اصل کلام وہی تھا جو ابتداءً رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل ہوا۔ان الفاظ کے قائم مقام اسی وقت تک استعمال ہو سکتے تھے جب تک قبائل آپس میںمتحد نہ ہو جاتے۔حضرت عثمانؓکا قرآن مجید کو حجازی قرأت میں محفوظ کرنا چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب بجائے اس کے کہ مکہ والے مکہ میں رہتے۔مدینہ والے مدینہ میںرہتے۔نجد والے نجد میں رہتے۔طائف والے طائف میں رہتے۔یمن والے یمن میںرہتے اور وہ ایک دوسرے کی زبان اور محاورات سے ناواقف ہوتے۔مدینہ دارالحکومت بن گیا تو تمام قومیں ایک ہو گئیں کیونکہ اس وقت مدینہ والے حاکم تھے جن میں ایک بڑا طبقہ مہاجرین مکہ کا تھا اور خود اہل مدینہ بھی اہل مکہ کی صحبت میںحجازی عربی سیکھ چکے تھے پس چونکہ قانون کا نفاذ ان کی طرف سے ہوتا تھا، مال ان کے قبضہ میں تھا اور دنیا کی نگاہیں انہیں کی طرف اٹھتی تھیں۔اس وقت طائف کے بھی اور نجد کے بھی اور مکہ کے بھی اور یمن کے بھی اور دوسرے علاقوں کے بھی اکثر لوگ مدینہ میں آتے جاتے تھے اور مدینہ کے مہاجرو انصار سے ملتے اور دین سیکھتے تھے اور اسی طرح سب ملک کی علمی زبان ایک ہو تی جاتی تھی۔پھر کچھ ان لوگوں میںسے مدینہ میں ہی آکر بس گئے تھے ان کی زبان تو گویا بالکل ہی حجازی ہو گئی تھی۔یہ لوگ جب اپنے وطنوں کو جاتے ہوں گے تو چونکہ یہ علماء اور استادہوتے تھے یقیناً ان کے علاقہ پر ان کے جانے کی وجہ سے بھی ضرور اثر پڑتا تھا۔علاوہ ازیں جنگوں کی وجہ سے عرب کے مختلف قبائل کو اکٹھا رہنے کا موقع ملتا تھا اور افسر چونکہ